
پرتاپ گڑھ: ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کی قیادت صفر ہونے کا سبب سیاسی طور پر اس کا تقسیم ہونا ہے، اگر مسلمان سیاسی طور پر متحد ہوتے تو آج ایسے حالات پیدا نہ ہوتے اور نہ ہی حقوق صلب کرنے کوئی جرت کرتا ۔مسلمانوں کو اپنے سیاسی وجود کو بچانے کیلئے ایک مرتبہ پھر ابابیلوں کی تاریخ دہرانی ہوگی۔ جس طرح ابابیلوں کی سرسوں کے برابر کی ایک ایک کنکریوں نے ابرہہ جیسے ظالم کو نست نابود کر دیا ، اسی طرح مسلمان ایک ایک ووٹ کی طاقت سے غالب آ سکتے ہیں بشرطہ کہ انہیں ابابیل کی طرح متحد ہو کر کنکریاں گرانی ہوں گی ۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے نائب صدر آصف نظام الدین صدیقی نے یہاں اپنی آمد پر یو این آئی سے بات چیت کے دوران مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ اگر ملک میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت ہوتی تو بابری مسجد کا فیصلہ عقیدے کی بنیاد پر نہ آتا۔ہم عدالت کے فیصلے کا احترام تو کرتے ہیں مگر سارے ثبوت کے باوجود فیصلہ قانون کے برعکس آنا مسلمانوں کی سیاسی کمزوری کا نتیجہ ہے ۔ انتخاب کے وقت ووٹ لینے کیلئے مسلمانوں کے مبینہ ہمدرد بن کر اور انہیں گمراہ کرکے انکے ووٹ حاصل کرنے والی سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں ۔جبکہ سبکدوش جج سے لے کر معتبر شخصیات فیصلے پر انگلی اٹھا رہے ہیں ۔ جب سے بی جے پی زیر اقتدار آئی ہے ملک میں ایک عجیب ماحول رونما ہوا ہے ۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST
صدیقی نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش جاری ہے اور مسلمانوں نے خانوں میں تقسیم ہو کر اپنی سیاسی طاقت کو منتشر کر دیا ہے ۔آج ان کا کوئی یارو مددگار نظر نہیں آ رہا ہے۔ ملک صرف واحد سماج وادی پارٹی ہی ہے جو مسلم مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتی رہتی ہے ۔ حکومت حامی فسطائی طاقتیں سرگرم ہیں وہ جب جو چاہتی ہیں کرنے میں تاخیر نہیں کرتیں ، حکومت کا اس پر قدغن لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ۔جس قوم کا سیاست میں اثر نہیں ہوتا وہ قوم یوں ہی پریشان رہتی ہے۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST
جیسے آج مسلمانوں کا سیاست میں کوئی مقام نہ ہونے کے سبب ان کی کوئی سماعت نہیں ہو رہی ہے ،وہ تقسیم ہو کر آج بے اثر ہو چکے ہیں۔ آج مسلمان اپنے ووٹوں کی قیمت کا احساس کر لے تو ابابیلوں کی کنکریوں کی تاریخ دہرا سکتے ہیں اور اسے کھویا ہوا وقار واپس مل سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہندو مسلم کی سیاست کرکے اکثریت کو گمراہ کر رہی ہے ۔اس کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب آج حالات یہ ہیں کی بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگیا ہے مہنگائی کے عروج پر ہونے کے سبب عام لوگ پریشان ہیں ۔بیشتر آبادی غریبی کی شکار ہے ۔امیر مزید امیر ہوتے جارہے ہیں اور زندگی کا سارا لطف حاصل کر رہے ہیں ۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی باگ ڈور سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہونے سے غریبی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔دلت و پسماندہ طبقہ اس بھاگ دوڑ میں بھٹک گیا ہے ۔ہندوستان کے شہریوں کیلئے سماجی و سیاسی برابری و معاشی انصاف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔اقتدار سے منسلک افراد عوام کو ترقی و خوشحالی کے غلط اعداد شمار پیش کر رہے ہیں ۔بڑے بڑے صنعتی ادارے چھوٹے دوکانداروں و چھوٹی صنعتوں کی قبر کھود رہے ہیں۔ گولف کورس ،پانچ ستارہ ہوٹل ،واٹر پارک وغیرہ کو ترقی کا معیار بتایا جارہا ہے ۔جبکہ غذائی تحفظ، پانی و بجلی کے بحران و قیمتوں میں اضافہ کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جارہا۔کسان جو کل آبادی کا دو تہائی ہے وہ خودکشی کے دہانے پر ہے ۔ مقامی لوگوں کا روزگار چھین کر انہیں بے روزگار بنایا جا رہا ہے ۔خصوصی طور سے این آر سی کے بہانے مسلمانوں کو جلا وطن کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔جب تک مسلمان سیاسی طور بیدار نہیں ہوگا اس کے حالات بہتر ہونے والا نہیں ہے ۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 22 Nov 2019, 6:11 PM IST