
سوشل میڈیا
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے قومی خاندانی صحت سروے کی چھٹی رپورٹ کو لے کر مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بچوں میں غذائی قلت اور خواتین میں خون کی کمی سے متعلق اہم اعداد و شمار کو رپورٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری اپنی پوسٹ اور ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد حکومت کی ناکامیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنا ہے۔
ملکارجن کھڑگے کے مطابق قومی خاندانی صحت سروے کی تازہ رپورٹ نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران غذائیت اور صحت کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ملک میں اب بھی ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ ایک تہائی بچے کم وزن ہیں۔ ان کے مطابق ہر دس میں سے تقریباً تین بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر ہے اور چھ سے تئیس ماہ عمر کے 84 فیصد سے زیادہ بچوں کو مناسب غذائیت نہیں مل رہی۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ کھڑگے کا کہنا تھا کہ اگر اتنے برسوں کے بعد بھی بچوں کی غذائی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
Published: undefined
کانگریس صدر نے خواتین کی صحت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے قومی خاندانی صحت سروے کی پانچویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 سے 49 سال عمر کی 57 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار تھیں، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون غذائی قلت سے متاثر تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تازہ رپورٹ میں خواتین کی غذائی کیفیت سے متعلق بعض اہم اشاریوں کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔
ویڈیو پیغام میں ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان تمام نکات کو رپورٹ سے نکال دیا جو اس کی مختلف اسکیموں کی خامیوں کو نمایاں کر سکتے تھے۔ انہوں نے پردھان منتری اجولا یوجنا اور سوچھ بھارت ابھیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اعداد و شمار بھی شامل نہیں کیے گئے جو ان منصوبوں کی حقیقی صورت حال کو ظاہر کرتے۔
Published: undefined
کھڑگے نے مزید دعویٰ کیا کہ رپورٹ ایک سال قبل تیار ہو چکی تھی، لیکن اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے صرف وہی معلومات برقرار رکھیں جو اس کے تشہیری بیانیے کے مطابق تھیں، جبکہ تنقیدی یا منفی پہلوؤں کو چھپا دیا گیا۔
کانگریس صدر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اعداد و شمار کے انتخاب میں جانبداری سے کام لے رہی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined