
تصویر قومی آواز / وپن
نئی دہلی میں کانگریس کارکنوں نے ایل پی جی سلنڈروں کی قلت کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے ہندوستانی قومی کانگریس کے مرکزی دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ گھریلو گیس کی مناسب فراہمی یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے اور اس مسئلے پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
احتجاج کے دوران کارکنوں نے سڑک پر ایک عارضی چولہا قائم کیا اور علامتی طور پر اس پر چائے تیار کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اگر گھروں میں گیس دستیاب نہ ہو تو لوگوں کو دوبارہ روایتی طریقوں سے کھانا پکانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس موقع پر کارکنوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور کہا کہ گیس کی قلت نے عام لوگوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
ایک کانگریس رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے سبب ملک اس بحران کا شکار ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر رسوئی سے سلنڈر غائب ہوتا نظر آ رہا ہے اور لوگ گیس حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر گیس کے انتظار میں کھڑے افراد کی حالت تک خراب ہو رہی ہے۔
Published: undefined
رہنما نے مزید کہا کہ اس بحران کے اثرات مختلف اداروں تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی کینٹین کو بھی گیس کی کمی کے باعث بند کرنا پڑا، جبکہ حکومت پارلیمنٹ میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کسی قسم کی کمی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ماضی کے بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے نوٹ بندی اور کووڈ انیس کے دوران آکسیجن کی کمی میں لوگ قطاروں میں نظر آئے تھے، ویسی ہی صورت حال اب گیس سلنڈروں کے معاملے میں دیکھی جا رہی ہے۔
اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی حکومت کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر سپلائی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تو قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ گیس مہنگی کیوں ہوئی اور لوگوں کو بروقت ایل پی جی کیوں نہیں مل رہی۔
Published: undefined
کانگریس کے ایک اور رکن پارلیمنٹ منوج کمار نے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور انہیں زیادہ دیر تک گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔
احتجاج کے دوران جب مظاہرہ تیز ہوا تو دہلی پولیس کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو قابو میں لینے کی کوشش کی اور کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined