
تصویر محمد تسلیم
نئی دہلی: اردو صحافت کے معروف کرائم رپورٹر امیر احمد راجہ آج منگل کے روز مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ وہ گزشتہ 4 روز سے لوک نائک جے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں ان کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی صحافتی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
امیر احمد راجہ نے اپنی صحافتی زندگی کا بیشتر حصہ اردو صحافت میں جرائم کی رپورٹنگ کے لیے وقف کیا۔ وہ دہلی کے جرائم اور پولیس سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھتے تھے اور کئی دہائیوں تک اس شعبے میں اپنی منفرد شناخت قائم رکھی۔ ان کی رپورٹنگ میں خبر کی تہہ تک پہنچنے، حقائق کی تصدیق اور ذرائع سے مضبوط رابطے کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔
امیر احمد راجہ نے اپنے طویل صحافتی سفر کے دوران پرتاپ، فیصل، ملاپ، ان دنوں، مشرقی آواز اور نئی دنیا سمیت متعدد اخبارات میں خدمات انجام دیں۔ کچھ عرصے تک انہوں نے سیاسی تقدیر اخبار میں بھی کام کیا۔ صحافت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ انہوں نے خود کو بھی ہم آہنگ کیا اور سال 2015 میں ’اردو نیوز سروس‘ کے نام سے اپنی ایجنسی قائم کی، جس کے ذریعے وہ فری لانس صحافتی خدمات انجام دیتے رہے۔
وہ نہ صرف ایک تجربہ کار رپورٹر تھے بلکہ دہلی کی اردو صحافت میں نئی نسل کے متعدد صحافیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی رہے۔ کرائم رپورٹنگ کے میدان میں ان کے وسیع تجربے، پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ ان کے پیشہ ورانہ روابط اور خبر کو پرکھنے کی صلاحیت نے انہیں اپنے ہم عصر صحافیوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔
امیر احمد راجہ کے انتقال سے اردو صحافت بالخصوص دہلی کی کرائم رپورٹنگ کو ایک بڑا نقصان پہنچا ہے۔ صحافتی حلقوں نے ان کے انتقال کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دیتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
امیر احمد راجہ کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عصر کوچہ پنڈت کی مسجد چاندی والی میں ادا کی گئی، جس میں صحافیوں، سماجی و سیاسی شخصیات، دوستوں، عزیزوں اور بڑی تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد ان کا جسدِ خاکی دہلی گیٹ قبرستان لے جایا گیا، جہاں سینکڑوں سوگواران کی موجودگی میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔
ممبر اسمبلی عمران حسین، ممبر اسمبلی آل محمد اقبال، کونسلر محمد صادق،سابق کونسلر راکیش کمار، شیخ علیم الدین اسعدی، حفیظ الحق سمیت بڑی تعداد میں صحافتی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے جنازہ میں شرکت کی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔