فوٹو ویڈیو گریپ
اترپردیش میں سنبھل ضلع کے سلیم پور سالار عرف حاجی پور گاؤں میں مقامی انتظامیہ کے ذریعہ ناجائز قرار دی گئی مسجد پراتوار کے روز بلڈوز کارروائی کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا مگرمسجد انتظامیہ کمیٹی نے بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے خود ہی ناجائز حصے کو توڑ کر انتہا پسندوں کے منہ پر تالا لگا دیا۔ مسجد انتظامیہ کے لوگوں نے گزشتہ شب تقریباً 12 بجے کے بعد 439 مربع میٹر میں بنی مدینہ مسجد کے شہید کرنے کی کارروائی انجام دی۔
Published: undefined
کہا جارہا ہے کہ اتوار کے روز تحصیلداردھیریندر پرتاپ سنگھ کی قیادت میں31 ریونیو اہلکاروں کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری صبح 10 بجے جائے وقوعہ پر پہنچنے والی تھی، لیکن اس سے پہلے ہی گرام سماج کی جگہ پر ناجائز تعمیرات کو زمیں دوز کردیا گیا۔ یہ کارروائی 2018 سے جاری قانونی عمل اور سرکاری اراضی پرغیر قانونی قبضے کی تصدیق کے بعد کی گئی ہے۔
Published: undefined
انتظامیہ نے ناجائز تجاوزات ہٹانے کے لیے 4 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس فیصلے سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ مگر مسجد کمیٹی کے اہلکاروں نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا اورغیرقانونی بتائی گئی تعمیرات کو زمیں دوز کردیا۔ گزشتہ رات 12 بجے شروع ہوئی انہدامی کارروائی اتوار کی صبح مکمل ہوئی۔ اس سلسلے میں تحصیلدار نے کہا کہ اگر لوگ خود تجاوزات ہٹا رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔
Published: undefined
یہ پورا معاملہ ایچوڑا کمبوہ تھانہ علاقے کا ہے۔ تحصیلدار دھیریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق متولی حاجی شمیم پر 439 مربع میٹر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کرکے مسجد بنانے کا الزام تھا۔ 14 جون 2018 کو درج رپورٹ کے بعد تحصیلدار کی عدالت میں برسوں تک سماعت جاری رہی۔ عدالت نے شواہد کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد اراضی کو سرکاری قرار دیتے ہوئے متولی کو بے دخل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
Published: undefined
انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کر رکھی تھیں۔ کئی تھانوں کی پولیس، پی اے سی اور آر آر ایف کی کمپنی، لیکھ پال اور قانون گو کی ٹیم موقع پر تعینات تھی۔ 3 بلڈوزر بھی تیار رکھے گئے تھے۔ تحصیلدار کے مطابق انتظامیہ کی اسی سختی کی وجہ سے ناجائز قبضہ کرنے والوں کے حوصلے پست ہوگئے اور انہوں نے بلڈوزر چلنے سے پہلے خود ہی سرکاری اراضی پرغیر قانونی تعمیرات کو منہدم کردیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined