کیرلہ کی ایک زیورات کی کمپنی ’کلیان جویلرس‘ کے لئے امیتابھ بچن نے اپنی بیٹی شویتا کے ساتھ ایک اشتہار کیا ہے۔ اشتہار ویسے تو ڈیڑھ منٹ کا ہے لیکن اس کا پیغام بڑا اور متنازعہ ہے ۔ یونین بینک نے اس اشتہار کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشتہار بینک اور بینکنگ نظام کی منفی شبیہ پیش کرتا ہے جس سے بینکنگ نظام میں عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔
Published: undefined
آل انڈیا بینک آفیسرس کنفیڈریشن نے کلیان جویلرس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے اشتہار کے ذریعہ بینک ملازمین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ تنطیم کے جنرل سکریٹری سوبھے دت نے الزام لگایا ہے کہ اشتہار میں جو پیش کیا گیا ہے اور جس طرح اس کو پیش کیا گیا ہے دونوں ہی غلط اور شبیہ خراب کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے اپنی واہ واہی اور تھوڑے سے فائدے کے لئے پورے بینکنگ نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔لیکن کلیان جویلرس کا کہنا کہ اشتہار کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ایک تصوراتی اشتہار ہے۔ اس اشتہار کے ذریعہ نہ تو بینکنگ نظام کو خراب شکل میں دکھانا ہے اور نہ ہی نظام پر سے اعتماد کم کرنا ہے ۔
کلیان جویلرس کمپنی کے فروغ کے لئے کیاکر رہا ہے اس پر تو سوال کھڑے ہو ر ہے ہیں ، لیکن امیتابھ بچن جن کو اس صدی کا ایک بڑا اداکار کہا جاتا ہے اور سماج میں ان کا ایک بڑا مقام ہے کیا ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ جو وہ کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں اس سے کسی نظام یا عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ کیا امیتابھ کے لئے پیسہ ہی سب کچھ ہے یا سماج کے تیئں بھی ان کی کوئی ذمہ داری ہے۔
Published: undefined
اشتہار میں امیتابھ کو ایک بزرگ شخص کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جو اپنی بیٹی کے ساتھ ایک آٹو رکشا سے بینک جاتے ہیں ،بینک میں دو کاؤنٹرس پر بینک ملازمین ان کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آتے ہیں اور آخر میں ان کو منیجر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے ۔ منیجر کوجب ان کی بیٹی یہ بتاتی ہے کہ ان کے والد کے کھاتہ میں پانچ ہزار روپے زیادہ آ گئے ہیں یعنی دو مرتبہ پینشن آ گئی ہے تو منیجر کہتے ہیں کہ پارٹی کیجئے کسی کو پتہ نہیں لگے گا۔ اس پر امیتابھ جواب دیتے ہیں کہ کسی کو پتہ لگے یا نہ لگے مجھے تو پتہ ہے ۔ اس کے بعد اشتہار کا اصل جملہ آتا ہے کہ ’جہاں اصول ہے وہاں بھروسہ ہے اور کلیان جویلرس بھروسہ کا نام ہے ‘۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بینک میں کبھی کبھی ملازمین کا صارفین کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہوتا لیکن ایسا کبھی نہیں سنا کہ بینک اپنے پیسے چھوڑ دے اور کسی صارف سے کہے کہ کسی کو نہیں پتہ لگے گا ۔ اوپر ی سطح پر افسران کی بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے کیا ملی بھگت ہوتی ہے اور وہ مل کر بینک کو کس طرح نقصان پہنچاتے ہیں یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن بینک ملازمین کبھی ایسا نہیں کرتے جیسا اشتہار میں دکھایا گیا ۔ بینک ملازمین کی ناراضگی جائز ہے اور اس اشتہار سے اس طرح کی بو آتی ہے کہ کہیں موجودہ بینکنگ نظام کی شبیہ خراب کر کے بینکنگ نظام کو ختم کرنے کی کوئی سازش تو نہیں ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined