
علامتی تصویر آئی اے این ایس
اتر پردیش میں پولیس انکاؤنٹرس سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تبصرہ نے اپوزیشن پارٹیوں کو یوگی حکومت پر حملہ کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کر دیا ہے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی دونوں ہی ریاست کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کا سنگین الزام بھی عائد کر رہے ہیں۔ کانگریس نے اس معاملہ میں کہا ہے کہ یوگی حکومت جرائم کو روکنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’اتر پردیش میں پوری طرح جنگل راج پھیلا ہوا ہے۔ اب الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ پولیس پرموشن کے لیے ہاف انکاؤنٹر کر رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، پولیس کے افسر ججوں پر اپنے حساب کا فیصلہ دینے کا دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔‘‘ کانگریس آگے لکھتی ہے کہ ’’یہ کتنی شرمناک بات ہے۔ بی جے پی حکومت نے ریاست کو ’پولیس اسٹیٹ‘ بنا دیا ہے، جہاں پولیس سرکاری غنڈوں کی طرح کام کر رہی ہے۔ لوگوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، وصولی کی جا رہی ہے۔‘‘ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کھیل میں پولیس کے ساتھ بی جے پی حکومت کے وزراء بھی شامل ہیں اور عوام کے ساتھ لوٹ کھسوٹ کا عمل انجام دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان انشو اوستھی نے حکومت کی بلڈوزر کارروائی پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی بلڈوزر کارروائی کو لے کر ریاستی حکومت کو پھٹکار لگا چکا ہے، لیکن یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے ذریعہ انکاؤنٹر معاملہ پر کیے گئے تبصرہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
Published: undefined
دوسری طرف سماجوادی پارٹی کے ترجمان فخرالحسن نے یوپی پولیس کے انکاؤنٹرس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے کبھی بھی آئین اور قانون کا احترام نہیں کیا ہے۔ وہ عدلیہ کے احکامات پر بھی عمل نہیں کرتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سے بی جے پی کی حکومت ریاست میں بنی ہے، اس پارٹی نے عدلیہ کے اختیارات کو صلب کرنے کا کام کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined