قومی خبریں

کرناٹک قانون ساز کونسل انتخاب: کانگریس کی 7 میں سے 5 نشستوں پر کامیابی

کرناٹک قانون ساز کونسل کی 7 نشستوں کے انتخاب میں کانگریس نے اپنی پانچوں نشستیں جیت لیں، جبکہ بی جے پی کو دو نشستیں ملیں۔ جے ڈی ایس امیدوار کی شکست کو این ڈی اے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

کرناٹک قانون ساز کونسل کی سات نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج جمعرات کو سامنے آگئے، جن میں کانگریس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دو نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ این ڈی اے کی اتحادی جماعت جنتا دل (سیکولر) کے امیدوار گووند راجو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جسے ریاستی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک امور کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے اس کامیابی کو ریاست کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئے باب کی شروعات قرار دیا۔ ان کے مطابق پارٹی کے امیدوار بی کے ہری پرساد، بی ایس شیونا، ٹپناپا کامکنور، پی وی موہن اور ونئے کارتک پہلے ہی مرحلے کی گنتی میں کامیاب قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو متوقع تعداد سے گیارہ زیادہ ووٹ ملے اور مجموعی طور پر ایک سو اکاون ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی۔

Published: undefined

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آر اشوک نے اعتراف کیا کہ ووٹنگ کے انداز سے واضح ہوا ہے کہ پارٹی کے تین ووٹ کانگریس کے حق میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ارکان کی نشاندہی کرکے مناسب کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب جنتا دل (سیکولر) کے اٹھارہ ارکان ہونے کے باوجود اس کے امیدوار کو صرف چودہ ووٹ مل سکے۔

Published: undefined

سیاسی حلقوں میں اس نتیجے کو نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے لیے بڑی کامیابی اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی کے لیے دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے اس انتخاب کو اپنی سیاسی ساکھ کا معاملہ بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (سیکولر) کے بعض ارکان نے کراس ووٹنگ کرتے ہوئے کانگریس کی حمایت کی۔

Published: undefined

انتخاب میں مجموعی طور پر دو سو بائیس ووٹ ڈالے گئے، جن میں ایک ووٹ غلط طریقے سے ترجیحی نمبر درج کیے جانے کے باعث مسترد کردیا گیا۔ کامیابی کے لیے ہر امیدوار کو ستائیس اعشاریہ تریسٹھ ووٹ درکار تھے۔ جنتا دل (سیکولر) امیدوار کے باہر ہونے کے بعد ووٹوں کی منتقلی کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار لنگراج پاٹل بھی کامیاب ہونے میں کامیاب رہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined