
کانگریس کی پریس کانفرنس
نئی دہلی: کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے ملک بھر میں طلبہ کے مسائل اور پیپر لیک کے خلاف اپنی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ مہم اب ملک کے 800 شہروں تک پہنچائی جائے گی، جبکہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اس مہم کے تحت ہونے والی بعض عوامی میٹنگوں کی قیادت کریں گے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی بدھ، 19 اگست کو نئی دہلی کے اندرا بھون میں ہونے والی میٹنگ کے بعد پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے صحافیوں کو بتایا کہ ’چھاتروں کی گونج‘ کے تحت ملک بھر میں عوامی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ پارٹی پیپر لیک کے معاملات اور طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے حکومت کے طریقہ کار کے خلاف اپنی مہم بھی تیز کرے گی۔
وینوگوپال نے بتایا کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں 3-4 اہم معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان میں سب سے اہم پیپر لیک کا مسئلہ تھا۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاج اور حکومت کے ذریعے ان سے نمٹنے کے طریقے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اپوزیشن کے لیے کامیاب رہا اور حکومت دفاعی پوزیشن میں رہی۔
سی ڈبلیو سی نے چندہ چوری کے تنازعہ، ہندوستان-چین سرحد کی صورتحال، اروناچل پردیش میں چین کی دراندازی، حد بندی اور ’وندے ماترم‘ کے سو سال مکمل ہونے کے حوالے سے بھی غور کیا۔ وندے ماترم کے معاملے پر وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس اپنی 1937 کی قرارداد پر قائم رہے گی اور آئندہ پارٹی کی تمام تقریبات میں صرف اس کے دو بند گائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کا موقف واضح ہے اور 1937 کی قرارداد کے وقت مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس اور سردار پٹیل سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔ رام مندر چندہ تنازعہ بھی سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں اہم موضوع رہا۔ کانگریس نے اس معاملے کو نچلی سطح تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وینوگوپال کے مطابق پردیش کانگریس کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گاؤں اور پنچایت کی سطح پر اس معاملے کو اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’چندہ چوری‘ ملک کے لوگوں کے لیے ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے اور اس کا تعلق عوام کے جذبات سے ہے۔ ان کا الزام تھا کہ جن لوگوں نے رام مندر کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی سیاست کی، وہ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ کانگریس نے اتراکھنڈ میں ملکارجن کھڑگے کی شرکت والے ایک پروگرام کے بعد ’شدھی کرن‘ کے معاملے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اس واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
ہندوستان-چین سرحد کی صورتحال بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہی۔ وینوگوپال نے کہا کہ اروناچل پردیش میں چین کی دراندازی کا معاملہ اٹھایا گیا اور کانگریس نے مودی حکومت پر ’سرنڈر پالیسی‘ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ قبل ازیں، ملکارجن کھڑگے نے بھی چین کے حوالے سے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ہندوستانی سرزمین میں چین کی دراندازی سے متعلق ’سنگین حقائق‘ سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے پر واضح طور پر بات کرنے کا مطالبہ کیا۔
کھڑگے نے 2020 کی گلوان جھڑپ کے بعد وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی غیر ملکی فوج ہندوستانی سرزمین میں داخل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں سے متعلق حقیقت جاننا ملک کے شہریوں کا حق ہے اور حکومت کو اس معاملے پر قوم کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔