قومی خبریں

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس اتراکھنڈ میں نکالے گی ’نیائے یاترا‘، پریس کانفرنس میں دی جانکاری

کانگریس لیڈر کماری شیلجا نے انکیتا قتل واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کے نام سامنے آئے، لیکن متعلقہ لیڈران سے پوچھ تاچھ اور جانچ کو لے کر سوال برقرار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انکیتا بھنڈاری کی حمایت میں کینڈل مارچ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCUttarakhand">@INCUttarakhand</a></p></div>

انکیتا بھنڈاری کی حمایت میں کینڈل مارچ کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @INCUttarakhand

 

اتراکھنڈ کانگریس کی انچارج کماری شیلجا نے دہرادون میں آج ایک اہم پریس کانفرنس کر کے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی دھامی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، بدعنوانی، بے روزگاری، پیپر لیک اور نقل مکانی جیسے مسائل پر حکومت کو گھیرا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کی آئندہ تحریک اور احتجاجی مظاہروں کے پروگراموں کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس 22 اکتوبر سے ’نیائے یاترا‘ نکالے گی، جس میں انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

کماری شیلجا نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کے نام سامنے آئے اور ایک آڈیو بھی وائرل ہوئی، لیکن متعلقہ لیڈران سے پوچھ تاچھ اور تحقیقات کے حوالے سے اب بھی سوالات برقرار ہیں۔ انہوں نے دُشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اتراکھنڈ کی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گورنر بننے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انکیتا کو انصاف دلانے کے لیے کانگریس کی تحریک جاری رہے گی۔ کانگریس نے آج شام دہرادون میں کینڈل مارچ نکالنے کا اعلان بھی کیا۔

اس درمیان اتراکھنڈ کانگریس انچارج نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کا طریقۂ کار جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ملنا چاہیے۔

کابینہ وزیر ریکھا آریہ سے متعلق معاملے پر کماری شیلجا نے کہا کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزیر کے شوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے مڈ ڈے میل، قومی کھیلوں اور راشن سے متعلق مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ریاستی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی غیر جانب داری پر بھی سوال اٹھائے۔

کماری شیلجا نے ریاست میں زمینوں کی خرید و فروخت، غیر قانونی کانکنی، بے روزگاری، پیپر لیکس اور نقل مکانی کے معاملات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بدری ناتھ میں چندہ چوری کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ رقم کا حساب عوام کو ملنا چاہیے۔ کانگریس کی حکومت بننے پر ان تمام معاملات کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔

کماری شیلجا نے ’نیائے یاترا‘ سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ کانگریس 22 سے 25 اکتوبر تک ریاست میں ’نیائے یاترا‘ نکالے گی۔ اس کے ذریعہ مختلف اسمبلی حلقوں میں پہنچ کر عوام سے متعلق مسائل اٹھائے جائیں گے۔ اتنا ہی نہیں، 27 اور 28 اکتوبر کو اسمبلی اجلاس کے دوران کانگریس اسمبلی کا گھیراؤ بھی کرے گی۔ کانگریس کی تحریکوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ بعد ازاں 4 نومبر کو زمینوں سے متعلق مبینہ گھوٹالوں کے خلاف ریاستی اور ضلعی ہیڈکوارٹرس پر دھرنا و احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔