قومی خبریں

میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کی منسوخی کو کانگریس نے جمہوریت کا قتل قرار دیا، پارٹی نے عدالت جانے کا کیا اعلان

میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس رہنماؤں کا ایک وفد دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچا اور نامزدگی منسوخ کیے جانے کے فیصلے پر سخت اعتراض کا اظہار کیا۔

<div class="paragraphs"><p>میڈیا سے خطاب کرتی ہوئیں، کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن (ویڈیو گرایب)</p></div>

میڈیا سے خطاب کرتی ہوئیں، کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن (ویڈیو گرایب)

 

مدھیہ پردیش راجیہ سبھا انتخاب میں کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ ہونے سے سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے اس فیصلے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ منگل کو پارٹی نے اس کے خلاف الیکشن کمیشن کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا اور معاملے کو عدالت میں لے جانے کی بات کہی ہے۔ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس رہنماؤں کا ایک وفد دہلی میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچا اور نامزدگی منسوخ کیے جانے کے فیصلے پر اعتراض کا اظہار کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جس نشست پر اس کی جیت کے امکانات مضبوط تھے، اسی نشست پر اس کے امیدوار کا نامزدگی فارم منسوخ کر دیا گیا۔

Published: undefined

کانگریس رہنما سچن پائلٹ نے کہا کہ ملک کی جمہوری تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ بغیر کسی واضح وجہ بتائے کسی امیدوار کا نامزدگی فارم منسوخ کر دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میناکشی نٹراجن کے خلاف نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہے اور نہ ہی کوئی چارج شیٹ داخل ہوئی ہے۔ پائلٹ نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر کی گئی ہے اور الیکشن کمیشن ان کی شکایت سننے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔

Published: undefined

کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن نے بھی نامزدگی فارم منسوخ کیے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی نے اکثریت پوری طرح اپنے حق میں نہ ہونے کے باوجود تیسرا امیدوار میدان میں اتارا، تبھی سے انہیں یہ خدشہ ہونے لگا تھا کہ سیاسی دباؤ بنایا جائے گا۔ ہمیں سمجھ آنے لگا تھا کہ وہ جمہوریت اور آئین کی آواز دبانے کی سیاست کر رہے ہیں۔ جو بات پہلے ووٹ کی چوری تک محدود تھی، وہ اب سیٹ کی چوری بن گئی ہے۔ نٹراجن نے کہا کہ ان کے وکلاء نے ریٹرننگ افسر کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن انہیں ٹھیک سے نہیں سنا گیا اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک امیدواری کا معاملہ نہیں ہے، ملک میں حالات سنگین ہیں۔ ہم اسے چیلنج کریں گے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined