قومی خبریں

دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب میں کانگریس کی حالت مضبوط، دہلی میں میئر کانگریس کا ہی ہوگا: ڈاکٹر اجئے کمار

دہلی پردیش کانگریس صدر چودھری انل کمار نے کیجریوال کو بی جے پی کا معاون اور دلت و اقلیت مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے اہم ایشوز پر اروند کیجریوال خاموش کیوں ہیں۔

ڈاکٹر اجے کمار اور چودھری انل کمار
ڈاکٹر اجے کمار اور چودھری انل کمار تصویر: پریس ریلیز

دہلی میونسپل کارپوریشن الیکشن کی تاریخ انتہائی قریب آ چکی ہے۔ انتخابی تشہیر کا عمل بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایسے میں سبھی امیدواروں کو اب انتخاب کا انتظار ہے۔ اس دوران کانگریس کے کچھ اہم لیڈروں نے دہلی میں پریس کانفرنس کر بی جے پی اور عآپ پر کئی طرح کے سنگین الزامات عائد کیے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب میں کانگریس مضبوط حالت میں ہے اور بی جے پی و عآپ کی بدعنوانی اور عوام مخالف پالیسیوں کے سبب عوام ان کا بائیکاٹ کرنے والی ہے۔

Published: undefined

پریس کانفرنس کے دوران کانگریس نے ایک پوسٹ بھی جاری کیا جس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے سامنے کچھ سوال رکھ کر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ پوسٹر میں بتایا گیا ہے کہ کیجریوال بی جے پی کے معاون ہیں اور وہ دلت-اقلیت مخالف ہیں۔ ساتھ ہی عآپ اور کیجریوال سے سوال کیا گیا ہے کہ اہم ایشوز پر وہ خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پوسٹر میں بتایا گیا ہے کہ کیجریوال سماج کو تقسیم کرنے والی حد بندی پر خاموش ہیں، روی داس مندر بنانے کو لے کر خاموش ہیں، دلتوں پر ہو رہے مظالم پر خاموش ہیں، مہرولی میں چرچ توڑے جانے پر خاموش ہیں، جامعہ-جے این یو کو بدنام کرنے والوں پر خاموش ہیں، جہانگیر پور بلڈوزر واقعہ پر خاموش ہیں، دہلی فسادات کی جوابدہی پر خاموش ہیں، جمہوریت کو بلڈوزر سے کچلنے پر خاموش ہیں، بلقیس بانو کے زانیوں کی رہائی پر خاموش ہیں، سی اے اے-این آر سی معاملے پر خاموش ہیں، شاہین باغ پر خاموش ہیں۔ دہلی پردیش کانگریس صدر چودھری انل کمار نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی اور کیجریوال حکومت کی ناکامیوں کو ہم لگاتار کانگریس ویژن کے تحت ظاہر کرتے آ رہے ہیں۔ دہلی میں دلتوں، غریبوں، اقلیتوں، مزدوروں، بے روزگاروں کو کس طرح راحت دیں گے، یہ اقتدار میں آنے پر پورا کر کے دکھائیں گے۔

Published: undefined

تصویر بذریعہ پریس ریلیز

کانگریس کے دہلی انچارج ڈاکٹر اجئے کمار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے دہلی میں جس طرح سے دلتوں، درج فہرست ذات، اقلیتوں، خواتین کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے وہ ان کی بے اصول سیاست کی مثال ہے۔ انھوں نے خواتین کی سیکورٹی کا وعدہ کر کے سی سی ٹی وی لگانے اور دہلی میں خواتین کے ساتھ ہو رہے جرائم پر روک لگانے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن ان کی حکومت میں اوسطاً 2 لڑکیوں کے ساتھ روزانہ عصمت دری ہو رہی ہے اور 46 فیصد چھیڑ خانی و 40 فیصد عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر اجے کمار نے مزید کہا کہ یہی حالت درج فہرست ذات اور اقلیتی طبقہ کے لوگوں کا بھی ہے جن کے حقوق کے مفادات کی حفاظت کے لیے دعوے کیے گئے تھے لیکن گزشتہ 8 سالوں سے لگاتار ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب کے تعلق سے انھوں نے کہا کہ اس میں کانگریس کی حالت مضبوط ہے اور یقینی طور پر دہلی میں میئر کانگریس کا ہی ہوگا۔

Published: undefined

اس موقع پر ہارون یوسف نے کہا کہ بی جے پی اور عآپ کے اندرونی اتحاد سے آج بڑا خطرہ دہلی میں فرقہ واریت پھیلا کر ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ لوگ ملک کو ڈرا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ آج کسی کی بھی ہمت ان کے خلاف بولنے کی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی جی بی جے پی کی تاناشاہی اور خوف پیدا کرنے والی پالیسی کے خلاف بے خوفی کا ماحول بنانے کے لیے کنیاکماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا نکال رہے ہیں۔ آج اس خوف کے ماحول میں جہاں آئین کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اس سے دلت، اقلیت، غریب، مزدور، کسان سمیت ہر ملکی باشندہ پریشان ہے۔ بی جے پی لگاتار آئینی اداروں کا گلا دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Published: undefined

سینئر کانگریس لیڈر راجیش للوٹھیا نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب میں کانگریس لیڈر ہر اسمبلی کے ہر وارڈ میں کانگریس امیدواروں کے حق میں طوفانی تشہیر کر رہے ہیں۔ ہم ووٹروں کو بتا رہے ہیں کہ بی جے پی اور عآپ کی کتھنی اور کرنی کے فرق کو آپ نے گزشتہ 15 سالوں میں بخوبی دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور کیجریوال حکومت مذہب مخالف و دلت مخالف ہے، جس نے 600 سال قدیم روی داس مندر کو تغلق آباد میں سیاست کے تحت تڑوا دیا۔ کانگریس کی کوششوں سے سپریم کورٹ میں جانے پر عدالت نے گرو روی داس مندر کو از سر تعمیر کرنے کا حکم دیا، اس کے باوجود بی جے پی اور عآپ کی دہلی حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined