
تصویر بشکریہ ایکس / ویڈیو گریب
اے آئی سی سی کی تنظیم ‘راجیو گاندھی پنچایتی راج سنگٹھن‘ کے کارکنان نے راج گھاٹ پر ستیہ گرہ کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن کے معاملے پر ریاستی سطح پر جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے قومی چیئرمین سنیل پنوار نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت، آئین اور گاندھی وادی نظریات کے تحفظ کے لیے ہے۔
Published: undefined
کانگریس کے ایکس ہینڈل پر جاری ایک ویڈیو بیان میں سنیل پنوار نے کہا کہ تنظیم کے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان گزشتہ روز جنتر منتر پر ستیہ گرہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد الیکشن کمیشن کے کردار کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار آئینی ادارے کے بجائے حکومت اور بی جے پی کے مفادات کے مطابق کام کر رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
سنیل پنوار نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن انہیں وہاں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
Published: undefined
انہوں نے بتایا کہ ان کے 33 ساتھیوں کو بھی مختلف تھانوں میں لے جایا گیا۔ ان کے مطابق 17 کارکنان کو دوارکا تھانے اور 16 کارکنان کو کاپسہیڑا تھانے منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں مچلکے اور بانڈ بھروا کر رات گئے انہیں رہا کر دیا گیا۔
سنیل پنوار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال کی اجازت نہ ملنے کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راج گھاٹ پہنچے تاکہ مہاتما گاندھی کے نظریات سے وابستگی کا اظہار کیا جا سکے اور جدوجہد کے عزم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Published: undefined
انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ تحریک ریاستی سطح پر چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں ایک روزہ روزہ، ستیہ گرہ اور عوامی بیداری کے پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ لوگوں کو موجودہ حالات سے آگاہ کیا جا سکے۔
سنیل پنوار نے کہا کہ یہ جدوجہد صرف میناکشی نٹراجن کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے خلاف نہیں بلکہ گاندھی وادی نظریات کے دفاع کی لڑائی بھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی گاندھی وادی آوازوں کو ایوان بالا تک پہنچنے سے روکنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ایسی تمام قوتوں کے خلاف متحد ہو کر میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined