
ویڈیو گریب
نئی دہلی: کانگریس نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے پیر کو ملک بھر میں احتجاج کیا اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے مطابق یہ مظاہرے ایک ہزار سے زائد مقامات پر کیے گئے۔
کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں ضلعی کانگریس کمیٹیوں کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اقدامات پر اپوزیشن کی جانب سے مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کارکنوں کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کے حالیہ اقدامات نے انتخابی عمل کی شفافیت کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔
وینوگوپال نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو نظرانداز کیا اور اس معاملے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ساتھ مل کر جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس کل منعقد ہونے جا رہا ہے اور انڈیا اتحاد کی میٹنگ 30 ستمبر کو ہونے والی ہے۔
اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے بھی سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مخالفت ملک بھر میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سخت الزامات عائد کیے اور کہا کہ اترپردیش کے لوگ انتخابی عمل سے متعلق معاملات پر بیدار ہو چکے ہیں۔
جھارکھنڈ میں کانگریس کارکنوں نے رانچی میں چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔ کارکنوں نے پرانے اسمبلی احاطے کے قریب سے احتجاجی مارچ نکالا، جو دھرووا واقع سی ای او دفتر پہنچ کر ختم ہوا۔ اس کے علاوہ ریاست کے تمام ضلعی صدر مقامات پر بھی احتجاج کیا گیا۔
مظاہرین نے سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے والے پوسٹر اور تختیاں اٹھا رکھی تھیں۔ جھارکھنڈ کانگریس کے صدر کیشو مہتو کملیش نے الیکشن کمیشن پر جانبدارانہ طریقے سے کام کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق معاملات پر پارٹی کو شدید اعتراضات ہیں۔ انہوں نے بہار اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ’غیر منصفانہ فائدہ‘ پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا۔ یہ بھی کانگریس کا سیاسی دعویٰ ہے۔
دہلی، تلنگانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، جموں و کشمیر اور دیگر ریاستوں میں بھی کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا۔ مختلف مقامات پر انتخابی عمل، ووٹر لسٹوں اور ایس آئی آر سے متعلق جواب دہی اور شفافیت کا مطالبہ کیا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔