قومی خبریں

دہرادون میں کانگریس کا زبردست احتجاج، ریاستی اسمبلی میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ہم پہلے بھی کھڑے تھے اور آگے بھی مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

اتراکھنڈ ریاستی اسمبلی میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیے جانے کے مطالبہ کو لے کر کانگریس کے ریاستی صدر گنیش گودیال کی قیادت میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس میں پارٹی کے سینئر لیڈران اور کارکنان بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔ جمعرات (23 اپریل) کو اسمبلی کی عمارت کے قریب ایک روزہ احتجاجی مظاہرہ میں ریاستی کانگریس صدر گنیش گودیال نے کہا کہ ’’حکومت لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ہم پہلے بھی کھڑے تھے اور آگے بھی مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ مرکزی حکومت کو ہمارا یہ چیلنج ہے کہ حد بندی کی گتھی سلجھا کر فوری طور پر لوک سبھا میں پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرے اور بل پاس کرائے۔

Published: undefined

کانگریس کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 2027 سے اسمبلی، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی موجودہ تعداد کی بنیاد پر ہی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے۔ کانگریس حکومت کے وقت میں راجیہ سبھا میں 2010 میں ہی خواتین ریزرویشن بل پاس کر دیا تھا اور لوک سبھا میں بھی ہم تیار تھے۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پنچایتوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا آغاز کیا تھا اور اسی کے نتیجے میں آج ملک کے اندر اتنی خواتین پنچایتی نمونے موجود ہیں جتنی پوری دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔

Published: undefined

دہرادون میں احتجاج کے دوران کانگریس کا کہنا ہے کہ اس بار حکمراں جماعت نے دھوکہ دہی کے ذریعہ خواتین ریزرویشن کو الجھا دیا ہے۔ خواتین ریزرویشن کے ساتھ حد بندی کو جوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر ضرورت تھی تو پھر حد بندی پر بات چیت کر اس کی گتھی کو سلجھاتے تو بہتر ہوتا۔ بی جے پی حکومت اگر حقیقی معنوں میں خواتین ریزرویشن کے حق میں ہے تو لوک سبھا میں موجود 543 اراکین کی بنیاد پر ہی 33 فیصد سیٹوں کو خواتین کے لیے ریزرو (مخصوص) کرنے کا اعلان کرے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined