قومی خبریں

رام مندر میں عطیات کی رقم کی چوری کی اعلیٰ عدالتی نگرانی میں جانچ ہو: کانگریس

کانگریس نے رام مندر میں عطیات کی رقم کی مبینہ چوری کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ عدالت کے حاضر سروس جج سے وقت بند جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس نے رام مندر میں عطیات کی رقم کی مبینہ چوری کے معاملے کو کروڑوں عقیدت مندوں کے اعتماد پر ضرب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی جانچ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کی نگرانی میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

نئی دہلی میں پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے اور ریاستی کانگریس کی قانون ساز پارٹی کی رہنما آرادھنا مشرا نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر سے وابستہ معاملات میں سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد ملک کے کروڑوں رام بھکتوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

Published: undefined

اجے رائے نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم پر کانگریس کو اعتماد نہیں ہے۔ ان کے مطابق جانچ کی ذمہ داری ایسے افسر کو سونپی گئی ہے جس کا نام پہلے بھی ایک اہم انتظامی معاملے کی جانچ کے سلسلے میں زیر بحث رہا ہے، اس لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدالتی نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر عوام کے سامنے پیش کی جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ رام مندر سے متعلق انتظامی اور مالی معاملات میں شفافیت کا فقدان رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مندر کی تعمیر اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں شامل بعض اہم شخصیات کی ذمہ داریوں اور فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ اجے رائے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل خود اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملہ معمولی نوعیت کا نہیں ہے۔

Published: undefined

کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ مندر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مختلف مہمات کے دوران حاصل ہونے والی رقوم کا مکمل اور شفاف حساب عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔ انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات انتہائی سنگین ہیں اور ان کی آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے زمین کے حصول کے عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض زمینوں کی خرید و فروخت میں قیمتوں کے غیر معمولی فرق کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، لیکن ان معاملات کی مؤثر جانچ نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اب عطیات کی رقم سے متعلق سامنے آنے والے الزامات نے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Published: undefined

آرادھنا مشرا نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ رام مندر اور سناتن دھرم کے نام پر عوامی اعتماد حاصل کرتے رہے، انہیں ان الزامات کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مندر سے متعلق متعدد معاملات میں شفافیت کی کمی رہی ہے اور مختلف مرحلوں پر مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مندر کی تعمیر کے دوران بنیادی ڈھانچے کے معیار اور دیگر انتظامی امور پر بھی سوالات سامنے آئے تھے۔ اس کے علاوہ بعض تاریخی اور مذہبی اہمیت کی حامل اشیا کے غائب ہونے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی تھیں، جن کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔

Published: undefined

آرادھنا مشرا نے کہا کہ عقیدت مندوں کی جانب سے عقیدت اور اعتماد کے ساتھ دی گئی عطیات کی رقم اگر کسی بھی سطح پر غلط استعمال یا خردبرد کا شکار ہوئی ہے تو یہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ مذہبی جذبات کے استحصال کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined