
ویڈیو گریب
نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کے روز لوک سبھا کی موجودہ نشستوں کی بنیاد پر خواتین کے لیے ریزرویشن فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن جیسے اہم معاملے کو سیاسی وجوہات کی بنا پر جان بوجھ کر ٹالا جا رہا ہے، جبکہ اسے بغیر کسی تاخیر کے نافذ کیا جانا چاہیے۔
یہ احتجاج آئین کے 131ویں ترمیمی بل کے لوک سبھا میں مسترد ہونے کے دو دن بعد کیا گیا، جس میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن اور لوک سبھا نشستوں کی تعداد بڑھا کر 816 کرنے کی تجویز شامل تھی۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان شریک ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ بھی کیا گیا۔
Published: undefined
کانگریس کے انچارج جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے کہا کہ جب یہ بل منظور ہوا تھا تو کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے نافذ کیا جائے لیکن اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 30 مہینوں تک اس معاملے پر خاموشی رہی اور اچانک 16 اپریل کی رات اس قانون کو نوٹیفائی کر دیا گیا۔
جے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ جب حکومت کو یہ اندازہ ہو گیا کہ حد بندی سے متعلق بل اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے پاس نہیں ہو پائے گا، تو اس نے عجلت میں خواتین ریزرویشن قانون کو نوٹیفائی کیا اور اب یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کانگریس اس کی مخالف ہے، جو حقیقت کے برعکس ہے۔
Published: undefined
دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارٹی کا واضح مطالبہ ہے کہ موجودہ 543 نشستوں پر ہی خواتین ریزرویشن نافذ کیا جائے۔ ان کے مطابق خواتین ریزرویشن کا معاملہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے اور اسے مزید مؤخر کرنا خواتین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی واقعی خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے نئی حد بندی کے بغیر ہی موجودہ نشستوں پر یہ ریزرویشن نافذ کرنا چاہیے۔
کانگریس کی ترجمان راگنی نائک نے سوال اٹھایا کہ جب 2023 میں خواتین ریزرویشن بل متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا تو اسے حد بندی کی شرط سے کیوں جوڑ دیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت اس قانون کو ایک نقاب کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس کے ذریعے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی 2018 سے اس معاملے پر وزیر اعظم کو خطوط لکھ کر خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے ساتھ انصاف کے دعوے کرنے والی حکومت کا رویہ ماضی میں مختلف رہا ہے۔ انہوں نے ہریانہ کی خاتون کھلاڑیوں کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔
اس دوران جے رام رمیش نے کانگریس کی تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راجیو گاندھی کے وژن کے تحت آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیم کے ذریعے پنچایتی راج اداروں اور بلدیاتی نظام میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آج لاکھوں خواتین ان اداروں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
کانگریس کا مؤقف ہے کہ 2023 میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور اسے حد بندی جیسے دیگر معاملات سے مشروط نہ کیا جائے، تاکہ خواتین کو بروقت سیاسی نمائندگی مل سکے۔
Published: undefined