قومی خبریں

کانگریس وفد کی الیکشن کمیشن سے ملاقات، میناکشی نٹراجن کے حق میں فوری مداخلت کا مطالبہ

کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ چونکہ نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ جاری ہے اور فیصلہ کے لیے کافی وقت موجود ہے، اس لیے کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس وفد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>

الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس وفد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ویڈیو گریب

 

کانگریس کے ایک وفد نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ میں آج الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ کانگریس لیڈران نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے ملاقات کر ریٹرننگ افسر (آر او) کے فیصلے کو غیر قانونی، جانبدارانہ اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔

Published: undefined

کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اس ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پارٹی کے وفد میں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی، وویک تنکھا، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، دیپا داس منشی، بھوپیش بگھیل، میناکشی نٹراجن اور وہ خود شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ وفد نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس معاملے سے متعلق تمام حقائق اور اعداد و شمار تفصیل سے پیش کیے اور نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

Published: undefined

اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور ممتاز قانون داں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے سامنے ایک مفصل نمائندگی پیش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریٹرننگ افسر کا حکم قانونی بنیادوں سے محروم اور سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 33 اے واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی امیدوار کے لیے صرف انہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہے جن میں 2 سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو اور جن میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق فرد جرم عائد کرنا ایک عدالتی عمل ہے اور یہ صرف جج ہی انجام دیتا ہے۔

Published: undefined

سنگھوی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجداری معاملے میں سب سے پہلا مرحلہ نجی شکایت (پرائیویٹ کمپلینٹ) کا ہوتا ہے، جو بے بنیاد بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کی جانب سے شکایت کا نوٹس لینا ایک آزاد عدالتی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کو صرف عدالت میں حاضر ہو کر یہ وضاحت دینے کا نوٹس ملا تھا کہ شکایت پر نوٹس کیوں نہ لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوٹس ایسے مرحلے پر جاری ہوا تھا جب عدالت نے ابھی تک نوٹس نہیں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں نوٹس لیے بغیر کوئی فوجداری مقدمہ وجود میں نہیں آتا۔ محض کسی شخص پر الزام عائد کر دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر باضابطہ طور پر نوٹس نہ لے۔

Published: undefined

ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی ایسے وقت مسترد کر دی گئی جب ان کے خلاف نہ تو عدالت نے نوٹس لیا تھا اور نہ ہی کوئی فوجداری مقدمہ قانونی طور پر وجود میں آیا تھا۔ ان کے مطابق جب نوٹس ہی نہیں لیا گیا تو ایسی کوئی قانونی ذمہ داری بھی نہیں بنتی تھی کہ وہ کسی مقدمے کی تفصیلات اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 33 اے کے تحت قانونی عمل میں پہلے نوٹس لیا جاتا ہے، پھر تفتیش ہوتی ہے اور اس کے بعد فرد جرم یا چارج شیٹ کا مرحلہ آتا ہے۔ لیکن میناکشی نٹراجن کے معاملے میں ان مراحل میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ریٹرننگ افسر کے حکم میں خود لفظ ’سنگیان‘ (نوٹس) استعمال کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت نے ابھی تک نوٹس لیا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ بات اس فیصلے کی کمزور قانونی بنیاد کو ظاہر کرتی ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ آئین ہند کے آرٹیکل 324 کے تحت کمیشن کو وسیع آئینی اختیارات حاصل ہیں۔ یہ اختیارات الیکشن کمیشن کو انصاف فراہم کرنے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کا اختیار دیتے ہیں۔

Published: undefined

ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلوں کو برقرار رکھا جاتا ہے تو انتخابی میدان غیر مساوی ہو جائے گا، جو جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق مساوی مواقع کا خاتمہ نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ ابھی جاری ہے اور فیصلہ کرنے کے لیے کافی وقت موجود ہے، اس لیے کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ واضح طور پر غیر قانونی، منمانی اور قانونی جواز سے خالی ہے، جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined