قومی خبریں

تہواروں سے پہلے چینی کی قیمتوں میں اضافہ، کانگریس نے اسے چینی گھوٹالہ اور مودی حکومت کا ماسٹر اسٹروک قرار دیا

کانگریس نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے ’چینی گھوٹالہ‘ قرار دیا۔ سرجےوالا نے کہا کہ تہواروں کے دوران مہنگی چینی سے صارفین پر 36 ہزار کروڑ کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس نے تہواروں کے موسم سے قبل چینی کی قیمتوں میں مبینہ اضافے کو لے کر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے چینی کی بڑھتی قیمت کو ’چینی گھوٹالہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کی پالیسیوں کا خمیازہ عام صارفین کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سرجے والا نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چینی کی قیمت تقریباً 45 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر اگست میں 70 سے 75 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر قیمتوں میں یہ اضافہ برقرار رہا تو تہواروں کے چار ماہ کے دوران ملک کے صارفین پر تقریباً 36 ہزار کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ ذخیرہ اندوزوں اور کالابازاری کرنے والوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے اسے مودی حکومت کا نیا ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ 12 برس سے حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی کا بوجھ عام لوگوں پر بڑھتا جا رہا ہے۔

سرجے والا نے چینی کے ذخائر اور پیداوار میں مبینہ کمی کو بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق 2025-26 سیزن کے آغاز میں ملک میں چینی کا ذخیرہ تقریباً 50 لاکھ ٹن تھا، جبکہ گزشتہ سیزن کے آغاز میں یہ تقریباً 80 لاکھ ٹن تھا۔ انہوں نے انڈین شوگر ملز ایسوسی ایشن کے 30 اپریل 2026 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رواں سیزن میں چینی کی پیداوار تقریباً 275 لاکھ ٹن رہی، جبکہ حکومت کی جانب سے پہلے 343 لاکھ ٹن پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

کانگریس جنرل سیکریٹری نے کہا کہ اگست سے نومبر کے دوران تہواروں کے سبب ملک میں چینی کی ماہانہ کھپت معمول کے تقریباً 24 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 30 لاکھ ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 20 اگست کو 10 لاکھ ٹن خام چینی کے ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی، لیکن بیرون ملک سے چینی کی آمد اور اسے ریفائن کرنے میں وقت لگنے کے باعث تہواروں کے موسم میں صارفین کو اس فیصلے کا فوری فائدہ ملنے کا امکان نہیں ہے۔

سرجے والا نے ایتھنول پالیسی کو بھی چینی کی دستیابی متاثر ہونے کی ایک وجہ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نومبر 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان گنے اور اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کا بڑے پیمانے پر ایتھنول کی پیداوار میں استعمال ہوا، جس سے گھریلو مارکیٹ میں چینی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ای20 ایندھن کی پالیسی کی وجہ سے گنے سے متعلق وسائل کا ایک بڑا حصہ ایندھن کی پیداوار میں استعمال ہوا اور اس کا اثر صارفین کو مہنگی چینی کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

کانگریس رہنما نے 2017 میں راشن کی دکانوں کے ذریعے رعایتی نرخ پر چینی فراہم کرنے کی اسکیم ختم کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت تقریباً 40 کروڑ افراد کو ہر ماہ فی فرد 500 گرام چینی 13.50 روپے فی کلوگرام کی شرح سے فراہم کی جاتی تھی اور حکومت فی کلوگرام 18.50 روپے سبسڈی دیتی تھی۔

سرجے والا نے کہا کہ اس سہولت کے خاتمے کے بعد عام خاندانوں کو سستی چینی کی دستیابی سے محروم ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دسہرہ اور دیوالی کے موقع پر جب عوام تہوار منائیں گے تو انہیں مہنگائی کا بوجھ بھی محسوس ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔