
نئی دہلی: امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روس سے خام تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دیے جانے کے معاملے پر کانگریس نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ اب امریکہ یہ طے کر رہا ہے کہ ہندوستان کہاں سے تیل خرید سکتا ہے اور کہاں سے نہیں۔
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی ہے اور اس کے لیے 30 دن کی چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں اس فیصلے کی اطلاع دی گئی تھی۔ کانگریس نے اس پوسٹ کے اسکرین شاٹ کو بھی شیئر کیا۔
Published: undefined
کانگریس نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ملک کو ایسی صورت حال میں پہنچا دیا ہے جہاں اب امریکہ یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ ہندوستان کہاں سے تیل خریدے گا اور کہاں سے نہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ فیصلہ نہ تو وزیر اعظم مودی کر رہے ہیں اور نہ ہی ہندوستانی حکومت بلکہ اس بارے میں امریکہ کی جانب سے اجازت دی جا رہی ہے۔
پارٹی نے مزید کہا کہ آج ملک کے شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ کون ہوتا ہے جو ہندوستان کو تیل خریدنے کی اجازت دے۔ کانگریس نے کہا کہ ہندوستان کسی ملک کا غلام نہیں بلکہ ایک خودمختار اور آزاد ریاست ہے۔ پارٹی کے مطابق لیکن وزیر اعظم مودی امریکہ سے یہ سوال نہیں اٹھا سکتے کیونکہ وہ مکمل طور پر امریکی مفادات کے سامنے سمجھوتہ کر چکے ہیں اور ملک کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ کانگریس نے اس صورتحال کو شرمناک قرار دیا۔
Published: undefined
اس معاملے پر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی طنزیہ انداز میں ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایک مختصر نظم کی شکل میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش نے لکھا کہ ٹرمپ کا نیا کھیل شروع ہو گیا ہے جس میں دہلی کے دوست کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ ولادیمیر پوتن سے تیل لے سکتا ہے، مگر یہ امریکی بلیک میلنگ کب تک جاری رہے گی۔
جے رام رمیش نے بھی اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی وہی پوسٹ شیئر کی جس میں روسی تیل کے معاملے پر چھوٹ کا ذکر کیا گیا تھا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر عالمی سیاست میں پہلے ہی کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک نے روسی توانائی کے شعبے پر مختلف پابندیاں عائد کی تھیں، تاہم کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے باعث روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسی پس منظر میں امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کے لیے محدود مدت کی چھوٹ دیے جانے کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد ہندوستانی سیاست میں اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے اسے ہندوستان کی خودمختاری سے جوڑتے ہوئے حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined