
نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سی بی ایس ای کی جانب سے درجہ 9 اور 10 میں سہ لسانی فارمولہ کے نفاذ معاملہ پر مرکزی حکومت اور وزارت تعلیم پر شدید تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک تفصیلی پوسٹ میں انہوں نے الزام لگایا کہ سی بی ایس ای نے اپنی ہی نصابی کمیٹی اور گورننگ باڈی کے فیصلوں کے خلاف جلدبازی اور منمانی کے ساتھ یہ فیصلہ نافذ کیا ہے، جس سے لاکھوں طلبا اور اسکولوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
جئے رام رمیش نے کہا کہ سی بی ایس ای پہلے ہی او ایس ایم نظام کے نفاذ میں مبینہ نااہلی، جلدبازی اور ٹینڈر کے عمل میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے، اور اب درجہ 9 اور 10 میں سہ لسانی فارمولہ کو نافذ کرنے کے فیصلے نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس لیڈر کے مطابق دسمبر 2025 میں سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی کی ششماہی میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں نصابی کمیٹی کی اس سفارش کو واضح طور پر منظور کیا گیا تھا کہ جب تک این سی ای آر ٹی زبانوں سے متعلق مرحلہ وار نصابی کتابیں جاری نہیں کر دیتی، تب تک سی بی ایس ای کو اپنی موجودہ تعلیمی پالیسی، خصوصاً زبانوں سے متعلق انتظامات برقرار رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے پر اس وقت کے سی بی ایس ای چیئرمین اور سکریٹری کے دستخط بھی موجود تھے۔
Published: undefined
تاہم جئے رام رمیش کے مطابق مئی 2026 میں سی بی ایس ای نے ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے اسکولوں کو ہدایت دی کہ وہ یکم جولائی 2026 سے درجہ 9 اور 10 کے نصاب میں تیسری زبان شامل کریں۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں کو یہ بھی کہا گیا کہ درجہ 9 کے طلبا کو تیسری زبان پڑھانے کے لیے این سی ای آر ٹی کے درجہ 6 کی درسی کتابوں کا استعمال کیا جائے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے سوال اٹھایا کہ آخر ان 6 ماہ کے دوران ایسا کیا بدل گیا جس کی بنیاد پر سی بی ایس ای نے اپنی ہی نصابی کمیٹی کی سفارش کو عملاً مسترد کر دیا، حالانکہ اس سفارش کو گورننگ باڈی کی منظوری حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ این سی ای آر ٹی نے اب تک درجہ 9 اور 10 کے لیے تیسری زبان کی کوئی نصابی کتاب جاری نہیں کی ہے، اس کے باوجود سی بی ایس ای نے پالیسی میں اچانک تبدیلی کر دی۔
Published: undefined
جئے رام رمیش نے سوال کیا کہ سی بی ایس ای نے یہ ’یو-ٹرن‘ کس کے حکم پر لیا اور اس کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ ان کے مطابق اس فیصلے کے حق میں کوئی تعلیمی یا تدریسی منطق موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس قدم سے تعلیمی کیلنڈر، اسکولوں کی منصوبہ بندی اور تدریسی نظام میں افراتفری پیدا ہو رہی ہے اور لاکھوں طلبا کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے میں تعلیمی مفاد کے بجائے سیاسی ایجنڈا زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ وزارت تعلیم اور اس کے تحت کام کرنے والے خود مختار ادارے، جیسے سی بی ایس ای، تعلیمی ماہرین کے مشوروں کے مطابق نہیں بلکہ مودی حکومت کی سیاسی ترجیحات اور ایجنڈے کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ایسے متنازع فیصلوں کی جوابدہی طے کرنے کا وقت آتا ہے تو سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سکریٹری جیسے افسران کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کے سیاسی ذمہ داران خود کو احتساب سے بچا لیتے ہیں۔
Published: undefined
اس معاملے میں جئے رام رمیش نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ نہ تو دیانت داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نہ ہی تعلیمی ماہرین کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined