قومی خبریں

امت شاہ کی پارلیمنٹ سے غیر حاضری پر کانگریس کا حملہ، ’ڈرانے دھمکانے والے خود بزدل ہوتے ہیں‘

کانگریس نے وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ سے مسلسل غیر حاضری پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ جے رام رمیش اور پون کھیڑا نے رام مندر چڑھاوا چوری، طلبہ پر کارروائی اور حکومتی خاموشی پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا اور جے رام رمیش / فائل تصویر / ویڈیو گریب</p></div>

پون کھیڑا اور جے رام رمیش / فائل تصویر / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس میں غیرحاضری کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ امت شاہ اب تک لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے اور کہا کہ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کو ڈرانے دھمکانے والے خود بزدل ہوتے ہیں۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ مختلف خبریں ’پلانٹ‘ کر کے اور عوامی بحث کا رخ تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود وزیر داخلہ ایوان میں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی کارروائی کے لیے جاری ایجنڈے میں امت شاہ کے نام کے سامنے قانون سازی سے متعلق کام درج تھا، اس کے باوجود وہ ایوان میں نظر نہیں آئے۔ جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ امت شاہ مانسون اجلاس کے اب تک 17 ایامِ کار کے دوران لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں موجود نہیں رہے اور اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر داخلہ کی طبیعت ٹھیک ہے اور کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے درمیان سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے؟

دوسری جانب کانگریس کے میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے بھی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کے ذہن میں جو سوالات ہیں، وہ اپوزیشن کے ذریعے پارلیمنٹ میں اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن حکمراں جماعت کے لوگ ان کا جواب دینے سے بچ رہے ہیں۔

پون کھیڑا نے رام مندر ٹرسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرسٹ تشکیل دے کر اس میں اپنے پسندیدہ لوگوں کو شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’چڑھاوا چوری‘ کا معاملہ سامنے آیا ہے تو وزیر اعظم سے سوال پوچھے جائیں گے۔ ان کے مطابق حکومت اپنے ’ٹول کٹ‘ کے ذریعے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن حکومت اور اس کے ’ٹول کٹ‘ دونوں کی ’ایکسپائری ڈیٹ‘ ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی مسلسل طلبہ سے بات کر رہے ہیں اور کانگریس کا وفد بھی ان سے ملاقات کر رہا ہے۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے کارکنوں کو دیگر ریاستوں سے جھارکھنڈ لایا گیا تاکہ ایک پرامن تحریک کو تشدد میں تبدیل کیا جا سکے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ جھارکھنڈ حکومت کی وزیر دیپیکا طلبہ اور نوجوانوں سے ملاقات کر رہی ہیں، لیکن کیا مرکزی حکومت کا ایک بھی وزیر جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملنے گیا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں آنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے ’کالے کارنامے‘ عوام کے سامنے آ چکے ہیں۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی کو شروع ہوا تھا۔ اپوزیشن ارکان ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ چڑھاوا چوری، دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور اس معاملے پر وزیر داخلہ کے بیان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مسائل پر مسلسل ہنگامے کے باعث دونوں ایوانوں میں تعطل برقرار ہے، تاہم ہنگامے کے درمیان حکومت کئی اہم بل منظور کرانے میں کامیاب رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔