
نئی دہلی: کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور پیپر لیک معاملات میں حقیقی جوابدہی سے بچنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا اعلان محض سرخیوں میں جگہ بنانے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ اطلاعات و تشہیر کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے دو اہم واقعات نے ملک کی تعلیمی نظام اور پیپر لیک کے معاملات سے نمٹنے کے حوالے سے مرکزی حکومت کی نیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے وزارت تعلیم کے اعلیٰ تعلیم کے سکریٹری کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ ایسے افسر کو تعینات کیا ہے، جن کے اہل خانہ پر مبینہ طور پر وزارت زراعت سے بھاری سبسڈی حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مذکورہ افسر اس سے قبل وزارت مویشی پروری، ماہی گیری اور ڈیری کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
انہوں نے ایک اور سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے سنجیو مکھیا کو کلین چٹ دے دی ہے، جنہیں اس سے قبل نیٹ-یو جی 2024 پیپر لیک معاملے کا اصل سرغنہ قرار دیا جا رہا تھا۔ جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ سنجیو مکھیا کی اہلیہ بہار اسمبلی انتخابات میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعت لوک جن شکتی پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ چکی ہیں۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے اعلان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کی صبح ہی عوامی امتحانات میں بے ضابطگیوں کی روک تھام سے متعلق قانون 2024 کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے ایک نئی فاسٹ ٹریک عدالت کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی ایسی عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں، لہٰذا وزیر اعظم کا اعلان "کھوکھلا اور محض سرخیاں حاصل کرنے کی کوشش" ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالتیں اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب تحقیقات غیر جانبدارانہ، شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں اور حکومت میں مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی سیاسی خواہش موجود ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران پیپر لیک کے معاملات میں مودی حکومت کا رویہ یہی رہا ہے کہ یا تو انکار کیا جائے یا پھر تحقیقات کو دبانے کی کوشش کی جائے۔
کانگریس نے اپنی دیرینہ مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے، طلبہ کے خلاف تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور احتجاج کرنے والے طلبہ سے سرکاری سطح پر معافی مانگی جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ سوالیہ پرچوں کے افشا کے خلاف سخت دفعات پر مشتمل ایک نیا بل کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نیٹ پیپر لیک معاملے کے بعد حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام اور ذمہ دار افراد کی گرفتاری شامل ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔