قومی خبریں

آسام میں کانگریس رہنماؤں کے قافلے پر حملہ، ناصر حسین نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر اٹھائے سوال

آسام کے ناگاؤں میں کانگریس رہنماؤں کے قافلے پر حملے کے بعد پارٹی نے بی جے پی پر اپوزیشن کو خوف زدہ کرنے کا الزام لگایا۔ ناصر حسین نے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>ناصر حسین / ویڈیو گریب</p></div>

ناصر حسین / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس نے آسام کے ناگاؤں لوک سبھا ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن رہنماؤں، کارکنوں اور ووٹروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن رہنماؤں و صحافیوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ پیر کو ناگاؤں کے سماگوری اسمبلی حلقے کے برما علاقے میں اس وقت پیش آیا، جب کانگریس کا قافلہ 6 اکتوبر کو ہونے والے ناگاؤں لوک سبھا ضمنی انتخاب میں پارٹی امیدوار سیبامونی بورا کی حمایت میں انتخابی جلسے کے لیے جا رہا تھا۔ قافلے میں سابق چھتیس گڑھ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، آسام کانگریس کے صدر گورو گوگوئی، دھوبری کے رکن پارلیمنٹ رقیب الحسن، اپوزیشن کے نائب رہنما واجد علی چودھری، اے آئی سی سی سکریٹری منوج چوہان، مہیلا کانگریس کی صدر میرا بورٹھاکر اور دیگر رہنما شامل تھے۔

کانگریس کے مطابق، مظاہرین نے پہلے قافلے کو سیاہ جھنڈے دکھائے اور ’گو بیک‘ کے نعرے لگائے، جس کے بعد گاڑیوں پر پتھر اور دیگر اشیا پھینکی گئیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ کچھ گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اے آئی سی سی سکریٹری منوج چوہان کو پتھر لگنے سے چوٹ آئی۔ واقعے کے دوران صحافیوں پر حملے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد صحافیوں نے احتجاج کیا۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کی مکمل تفصیلات کی سرکاری تحقیقات جاری ہیں۔

کانگریس کے جموں و کشمیر کے انچارج جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر ناصر حسین نے پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کی جائے۔ انہوں نے ذمہ دار افسران کے تبادلے یا معطلی، واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے ایف آئی آر اور تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے رکھنے اور انتخاب تک امیدواروں، اپوزیشن رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو مناسب سکیورٹی دینے کی بھی اپیل کی۔

ناصر حسین نے کہا کہ انتخابات میں شکست کے خدشے کے باعث بی جے پی تشدد کا سہارا لے رہی ہے اور اس طرح کے واقعات اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ووٹروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اگر کانگریس نے پہلے ہی ممکنہ کشیدگی کے بارے میں حکام کو اطلاع دی تھی تو پیشگی حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔