قومی خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ پر کانگریس نے پھر پی ایم مودی پر کیا حملہ، 5 مطالبات رکھے سامنے

کانگریس لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ہر رام مندر میں پورا رام دربار موجود ہوتا ہے، لیکن یہ پہلا مندر ہے جہاں سیتا میّا کے لیے جگہ ہی نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شکتی سنگھ گوہل / ویڈیو گریب</p></div>

شکتی سنگھ گوہل / ویڈیو گریب

 

ایودھیا واقع شری رام مندر میں چندہ چوری کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے میں لگاتار آواز بلند کر رہی ہے اور مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے آج اس معاملہ پریس کانفرنس کر کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایودھیا کے رام مندر میں 40 دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے، جس میں 70 بار چوری کی واردات نظر آئی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’2023 سے 2025 تک کی آڈٹ رپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ مندر میں نذرانہ چوری کیا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، سی سی ٹی وی کا کوریج بھی صحیح جگہ پر نہیں ہے... لیکن ان باتوں کی جانچ نہیں کی گئی۔‘‘

شکتی سنگھ گوہل نے رام مندر میں مبینہ بے ضابطگی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سچائی یہ ہے کہ جب ٹرسٹ نے 2.9 کروڑ روپے کی زمین کو 18 کروڑ روپے میں خریدا تھا، اسے تبھی برخاست کر دینا چاہیے تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سناتن میں شنکراچاریہ جی کا پیغام آخری مانا جاتا ہے۔ شنکراچاریہ جی نے کہا تھا کہ رام مندر میں پروگرام کے لیے مہورت ٹھیک نہیں ہے، لیکن بی جے پی نے انتخابی فائدہ کے لیے بات نہیں مانی۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی لیڈران بھگوان کے نام پر اپنی روٹی سینکتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بات بھی سامنے رکھی کہ ہر رام مندر میں پورا رام دربار موجود ہوتا ہے، لیکن یہ پہلا مندر ہے جہاں سیتا میّا کے لیے جگہ ہی نہیں ہے۔

رام مندر میں چندہ چوری کو شکتی سنگھ گوہل نے چندہ دہندگان کے ساتھ دھوکہ قرار دیا اور کہا کہ ’’بھگوان شری رام کے مندر کے لیے کروڑوں لوگوں نے پوری عقیدت کے ساتھ چندہ دیا تھا، لیکن ٹرسٹ نے ان کا کوئی حساب ہی نہیں رکھا۔ رام مندر ہمارے عقیدہ کا مرکز ہے، اس میں کی گئی چوری کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جب تک رام مندر میں چندہ چوری کی بات سامنے نہیں آئی تھی، تب تک ہر روز 18-16 لاکھ روپے عطیہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے۔ لیکن جیسے ہی مندر میں چوری کا انکشاف ہوا، اس دن سے روزانہ 26-24 لاکھ روپے جمع ہونے لگے۔ یعنی روزانہ تقریباً 10 لاکھ روپے کا ہیرا پھیری کیا جاتا تھا۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’رام مندر کے بڑے پجاری مہنت لال داس نے رتھ یاترا کے دوران کہا تھا کہ اسے مذہبی جگہ ہی رہنے دو، سیاست کا اکھاڑا مت بناؤ۔ اس کے بعد پہلے انھیں عہدہ سے ہٹایا گیا اور پھر بعد میں ان کا قتل کر دیا گیا۔‘‘ اس سنگین الزام کو عائد کرنے کے بعد کانگریس لیڈر نے کچھ اہم مطالبات سامنے رکھے، جو اس طرح ہیں:

  • شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو فوراً تحلیل کیا جائے

  • شنکراچاریہ جی، سپریم کورٹ کے سبکدوش جج، نرموہی اکھاڑا کے نمائندہ اور سادھو سَنت مل کر ایک نئے ٹرسٹ کو تشکیل دیں

  • چمپت رائے کو فوراً گرفتار کیا جائے

  • اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائے

  • مودی جی ذمہ داری لیتے ہوئے ملک کی عوام سے معافی مانگیں

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔