قومی خبریں

کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ: دو نئے صوبوں تک پہنچی وبا، متاثرین اور اموات میں اضافہ

کانگو میں ایبولا کی وبا دو مزید صوبوں تک پھیل گئی۔ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1926 اور اموات 702 ہو گئی ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے اصل متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور اب یہ شمال مشرقی علاقے کے دو نئے صوبوں، ہاؤت اوئیلے اور تشوپو، تک پھیل چکی ہے۔ قومی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ایبولا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1926 ہو گئی ہے، جبکہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 702 تک پہنچ گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتے تک تشوپو صوبے میں ایبولا کے چار نئے مریض سامنے آئے، جن میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ہاؤت اوئیلے میں بھی ایک ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان نئے معاملات کے بعد دونوں صوبوں کو باضابطہ طور پر وبا سے متاثرہ علاقوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

رواں برس 15 مئی کو اعلان کی جانے والی یہ وبا جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی سترہویں وبا ہے۔ اب تک اس کا زیادہ تر مرکز ایتوری صوبہ رہا ہے، تاہم شمالی کیوو اور جنوبی کیوو میں بھی متعدد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ تازہ پیش رفت کے بعد متاثرہ علاقوں کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔

قومی ادارۂ صحت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاؤت اوئیلے اور تشوپو میں سامنے آنے والے زیادہ تر مریض ایتوری کے شہر نیانیا سے وابستہ ہیں اور وہاں سے لوگوں کی آمدورفت کے نتیجے میں وائرس ان علاقوں تک پہنچا۔ ادارے کے مطابق اسی بنیاد پر دونوں صوبوں کو وبائی خطہ قرار دینا ضروری سمجھا گیا۔

تشوپو کی راجدھانی کیسانگانی جمہوریہ کانگو کے بڑے شہروں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ ہاؤت اوئیلے کی سرحدیں جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ سے ملتی ہیں، جس کے باعث سرحد پار وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرس ہے جو متاثرہ انسان یا جانور کے جسمانی رطوبتوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری کی نمایاں علامات میں تیز بخار، قے، شدید کمزوری اور جسم کے اندرونی یا بیرونی حصوں سے خون بہنا شامل ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار ممکنہ طور پر وبا کی حقیقی صورت حال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ہر پانچ میں سے چار نئے مریض ایسے سامنے آ رہے ہیں جن کا پہلے سے معلوم متاثرہ افراد سے کوئی واضح تعلق نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے امکان ہے کہ اصل متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دو سے چار گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال وبا پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔