
فائل تصویر اٗٓئی اے این ایس
تلنگانہ کےوزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے بی آر ایس پارٹی پر حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی قائدین نے کانگریس حکومت کو بدنام کرنے اور ریاست میں خشک سالی اور کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے تانترک رسومات کی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی کیا کہ بی آر ایس کے ایک سابق وزیر نے اپنے مندر کے دوروں کو خفیہ کیوں رکھا؟ ریڈی نے یہ بیان سنگاریڈی شہر میں ا سمارٹ پی ڈی ایس راشن کارڈس کی تقسیم کے ایک پروگرام میں دیا۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ریڈی نے براہ راست بی آر ایس ایم ایل اے ٹی ہریش راؤ کا نام نہیں لیا لیکن بالواسطہ طور پر انہیں نشانہ بنایا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمل ناڈو اور کرناٹک میں ان کے مندروں کے دوروں کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا یا کسی اور جگہ پر کیوں نہیں شیئر کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ ہریش راؤ یہ انکشاف کریں کہ انہوں نے کن مندروں کا دورہ کیا اور کون سی تانترک رسومات ادا کیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی خواہش میں بی آر ایس لیڈر اس قدر گر گئے ہیں کہ وہ ریاست میں بحران پیدا کرنے کے لیے کالے جادو کا سہارا لے رہے ہیں۔
تاہم، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ال نینو کے اثرات کے باوجود، گوداوری اور دریائے کرشنا پر یللم پلی پراجکٹ کو پانی ملا ہے، جو ان کی حکومت کے صاف ارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بی آر ایس کے اشتعال انگیز ہتھکنڈوں کا شکار نہ ہوں اور کہا کہ حکومت نے ایک سال میں 70,000 نوکریاں پیدا کی ہیں اور دو سالوں میں 700,000 غریبوں کے لیے گھر بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔