وجے، ویڈیو گریب
تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ انہوں مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے 500 میٹر کے دائرے میں واقع 717 ’ٹی اے ایس ایم اے سی‘ شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اگلے 2 ہفتوں کے اندر اس پر عمل درآمد ہو جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو میں شراب کی دکانوں کا معاملہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ وہاں کی عوام کافی دنوں سے مطالبہ کر رہی تھی کہ اسکول-کالج اور مذہبی مقامت کے پاس موجود شراب کی دکانوں کو بند کر دیا جائے، لیکن ان سے ہونے والی آمدنی کو لے کر حکومتیں اس کے متعلق کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا پاتی تھیں۔ حالانکہ ہر سیاسی پارٹی خواہ وہ ڈی ایم کے ہو یا اے آئی اے ڈی ایم کے سب نے تمل ناڈو میں شراب بندی کا وعدہ اپنے انتخابی منشور میں کیا تھا لیکن اس پر ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جا سکے۔
Published: undefined
2023 میں ایم کے اسٹالن کی حکومت نے شراب سے اموات کے بعد 500 سرکاری شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو میں 5000 سے زائد شراب کی دکانیں ہیں، جن سے تقریباً 40 ہزار کروڑ کا ریونیو ہے۔ اسٹالن حکومت نے جن دکانوں کو بند کیا تھا ان میں مذہبی مقامات اور اسکول-کالج کے پاس موجود دکانیں تھیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو اعتراض تھا کہ ان کے علاقے سے دکانیں ہٹائی جائیں انہیں بھی ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ صرف چنئی سے 61 دکانوں کو بند کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس کے علاوہ کانچیپورم 31 اور مدورے میں 21 دکانیں بند کی گئی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا نے 2016 میں شراب کی دکانوں کو آہستہ آہستہ بند کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک کے بعد ایک ریاستی حکومت یہ دلیل دیتی رہی ہیں کہ مکمل طور سے شراب بندی کے بعد غیر قانونی شراب کا راستہ کھل جائے گا، جس کی وجہ سے جانیں جائیں گی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ وجے تھلاپتی نے راہل گاندھی کی موجودگی میں 10 مئی کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا۔ گورنر وشوناتھ آرلیکر نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ وزیر اعلیٰ بنتے ہی انہوں نے ریاست میں 200 یونٹ مفت بجلی اور خواتین کو بس میں مفت سفر جیسے کئی بڑے اعلان کر دیے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے اسٹالن حکومت کی مالیاتی تحقیقات کے لیے ’وائٹ پیپر‘ بھی جاری کر دیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined