
ڈی کے شیو کمار / آئی اے این ایس
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز کرناٹک بھون میں کرناٹک کے سبھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ کا ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی جانب سے تمام اراکین کو خط بھیجا گیا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد مرکزی حکومت کے پاس زیرِ التوا کرناٹک سے متعلق تجاویز پر غور کرنا تھا، اور ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مرکز کے تعاون کے حصول پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکانِ پارلیمنٹ کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ مانسون اجلاس کے آغاز کے پیش نظر ریاست کے تمام لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکان سے ملاقات کرنا ہے، اور مرکزی حکومت کے سامنے کرناٹک سے متعلق زیرِ التوا تجاویز، نیز ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے مرکزی حکومت کے تعاون کے حصول کے موضوع پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے 27 جولائی کو شام 6:30 بجے کرناٹک بھون-1 (کاویری)، نئی دہلی میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس اجلاس میں شریک ہو کر اپنی قیمتی آرا اور رہنمائی فراہم کریں۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے صنعتی شعبے کے رہنماؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ کرناٹک حکومت کے ساتھ شراکت داری کریں، تاکہ ریاست کی ترقی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے بنگلورو سے باہر عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، صنعت کے اشتراک سے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) یونیورسٹی کے قیام اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی پالیسیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا تھا کہ ’’بنگلورو کی سب سے بڑی طاقت اس کی باصلاحیت افرادی قوت اور اختراعی ٹیکنالوجی کا ماحولیاتی نظام ہے، اور شہر کی کامیابی کا سہرا ان افراد اور کمپنیوں کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اسے ہندوستان کی ٹیکنالوجی راجدھانی بنائی۔‘‘ کرناٹک کی اقتصادی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ ’’ریاست سے سافٹ ویئر برآمدات 43 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور توقع ہے کہ رواں سال یہ 55 لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔