بی جے پی لیڈر چندن منڈل کی ترنمول کانگریس میں شامل ہوتے ہوئے تصویر، سوشل میڈیا
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی جاری سرگرمیوں کے درمیان بی جے پی سے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے چندن منڈل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرقی میدنی پور کے مَینا علاقہ میں بی جے پی لیڈر وجے کرشن بھوئیاں کے قتل کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے، کیونکہ اس تعلق سے این آئی اے (قومی تفتیشی ایجنسی) نے چندن منڈل کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ چندن منڈل کو اسی ہفتہ کولکاتا واقع این آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد منڈل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی اور اسے بی جے پی کی رنجش پر مبنی کارروائی قرار دیا۔
Published: undefined
چندن منڈل کا کہنا ہے کہ وجے کرشن بھوئیاں کے قتل کے وقت وہ بی جے پی میں تھے۔ وہ حال ہی میں کولکاتا کے ترنمول بھون جا کر باضابطہ طور پر ترنمول میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پارٹی بدلنے کے بعد سیاسی مقصد سے انہیں ہراساں کرنے کے لیے یہ نوٹس بھیجا گیا ہے۔ حالانکہ بی جے پی نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ مَینا کے بی جے پی رکن اسمبلی اشوک ڈنڈا کا کہنا ہے کہ این آئی اے کس کو نوٹس دے گی، یہ مکمل طور پر تفتیشی ایجنسی کا معاملہ ہے اور اس کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اکثر بی جے پی کو ’واشنگ مشین‘ بتاتی رہی ہیں، جہاں بڑا سے بڑا بدعنوان اور مجرم بھی سزا سے بچ کر سکون کی زندگی گزارتا ہے۔ مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے اپوزیشن پارٹیوں کے کئی لیڈران بی جے پی میں شمولیت کے بعد مقدمات سے یا تو بری ہو گئے، یا پھر ان پر سختی کم ہو گئی۔ اس کی مثالیں اکثر اپوزیشن پارٹیاں دیتی رہتی ہیں۔ چندن منڈل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیے جانے کا الزام لگ رہا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ چندن جب تک بی جے پی میں تھا، وہ بے قصور تھے، اور دوسری پارٹی میں جاتے ہی ان کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔
Published: undefined
بہرحال، یکم مئی 2023 کو مَینا کے باکچا گھوڑا محل علاقہ میں بی جے پی کے بوتھ صدر وجے کرشن بھوئیاں کو مبینہ طور پر اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں مقتول کی بیوی نے مَینا تھانے میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں ترنمول کانگریس کے 34 رہنماؤں اور کارکنوں پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی تفتیش این آئی اے کے سپرد کر دی گئی۔ این آئی اے اب تک اس معاملے میں مَینا کے ترنمول کانگریس کے کچھ لیڈران کو گرفتار کر چکی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined