قومی خبریں

ٹیلی گرام پر مرکزی حکومت کی سختی میں اضافہ، پائریٹیڈ فلم اور او ٹی ٹی مواد فوراً ہٹانے کی ہدایت

حکومت کا تازہ قدم اس لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ پائریسی کے باعث ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور ڈیجیٹل تفریحی شعبہ کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹیلی گرام / آئی اے این ایس</p></div>

ٹیلی گرام / آئی اے این ایس

 

مرکزی حکومت نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل پائریسی کے خلاف بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت نے میسجنگ پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر موجود غیر قانونی اور پائریٹیڈ مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ وزارت نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ٹیلی گرام پر شیئر کی جا رہی پائریٹیڈ فلموں، ویب سیریز اور او ٹی ٹی مواد پر فوری روک لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے پلیٹ فارم سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی مکمل رپورٹ آئندہ 15 دن کے اندر پیش کرے۔

Published: undefined

پیپر لیک معاملہ میں ٹیلی گرام پر کی گئی سختیوں اور پابندیوں کے بعد مرکزی حکومت کے ذریعہ اٹھایا گیا تازہ قدم ٹیلی گرام پر سختی میں اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا تازہ قدم اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پائریسی کے باعث ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور ڈیجیٹل تفریحی شعبہ کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کئی نئی فلموں اور ویب سیریز کی ریلیز کے فوراً بعد ان کی غیر قانونی طور پر تشہیر اور تقسیم شروع ہو جاتی ہے، جس سے پروڈیوسرز کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔

Published: undefined

یہ نیا نوٹس ان شکایات کے بعد جاری کیا گیا ہے جو کئی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور مواد کے مالکان نے درج کرائی تھیں۔ ان شکایات میں کہا گیا تھا کہ ٹیلی گرام پر بغیر اجازت فلمیں اور ویب سیریز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ جانچ کے بعد وزارت نے تقریباً 3,142 ٹیلیگرام چینلز کی نشاندہی کی ہے، جو مبینہ طور پر پائریٹیڈ مواد پھیلا رہے تھے۔

Published: undefined

حکومت نے یہ نوٹس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت جاری کیا ہے۔ اس میں ٹیلی گرام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام غیر قانونی مواد کو فوری طور پر ہٹائے اور اپنے ضوابط کو مزید سخت بنائے۔ ساتھ ہی، 2021 کے آئی ٹی قواعد کے مطابق آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے حکومت یا عدالت کے حکم ملنے پر غیر قانونی مواد ہٹانا لازمی ہوتا ہے۔ یہ پوری کارروائی حکومت کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں آن لائن پائریسی پر روک لگانا اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کو ان کا جائز حق دلانا ہے۔

Published: undefined

اس دوران حکومت نے میسجنگ ایپس کے یوزر نیم فیچر سے متعلق بھی جانچ تیز کر دی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ٹیلی گرام اور سگنل کو نوٹس بھیج کر اس فیچر کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کسی کی شناخت کی چوری، فرضی اکاؤنٹس بنانا یا آن لائن دھوکہ دہی کرنا۔ اسی طرح کی تشویش اس سے پہلے واٹس ایپ کے نئے فیچر سے متعلق بھی ظاہر کی گئی تھی۔ کمپنیوں سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اپنے یوزر نیم سسٹم میں سیکورٹی کے کیا انتظامات رکھتی ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined