
آئی اے این ایس
نئی دہلی: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ڈیجیٹل اریسٹ ٖ فراڈ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے اڈیشہ اور راجستھان میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی 30 جون کو کی گئی، جس کے دوران 7 مقامات کی تلاشی لی گئی اور اہم شواہد بھی ضبط کیے گئے۔
Published: undefined
سی بی آئی اس معاملے کی جانچ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مقدمہ 25 مارچ کو درج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزموں نے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو فرضی قانونی کارروائی اور نام نہاد ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھا کر دو کروڑ سات لاکھ روپے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم پہلے ایک ٹرسٹ کے نام پر کھولے گئے بینک کھاتے میں منتقل کی گئی، جس کے بعد اسے مختلف بینک کھاتوں کے ذریعے گھما کر آگے بھیجا گیا تاکہ رقم کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔
Published: undefined
سی بی آئی نے بتایا کہ اس معاملے میں اڈیشہ کے بالاسور سے دو ملزموں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تیسرے ملزم کو راجستھان کے ناگور سے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق تینوں ملزم غیر قانونی رقم کو مختلف کھاتوں کے ذریعے منتقل کرنے اور اس کی تہہ در تہہ منتقلی کے عمل میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔
چھاپوں کے دوران تفتیشی ٹیم نے متعدد اہم دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور دیگر الیکٹرانک شواہد بھی ضبط کیے ہیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد اور ممکنہ معاونین کی بھی نشاندہی کی جا سکے۔
Published: undefined
سی بی آئی نے کہا ہے کہ بینکاری نظام کا غلط استعمال کر کے سائبر جرائم کو فروغ دینے والے افراد اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر نہ صرف مالی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تفتیشی ایجنسی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سائبر دھوکہ دہی کے مختلف طریقوں، جعلی سرمایہ کاری کی پیشکشوں، سرکاری اداروں یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے نام پر آنے والی فرضی کالوں اور نام نہاد ڈیجیٹل اریسٹ جیسی دھمکیوں سے ہوشیار رہیں۔ سی بی آئی نے واضح کیا کہ ایسی کال یا پیغام موصول ہونے پر گھبرانے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined