
بندر / تصویر یو این آئی
مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں بندروں کی بڑھتی ہوئی دھماچوکڑی کو روکنے کے لیے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ محکمۂ جنگلات کی جانب سے 22 اپریل کو جاری ایک حکم کے مطابق بندروں کو محفوظ طریقے سے پکڑنے پر 600 روپے انعام دیا جائے گا۔ حکومت کا یہ اعلان اب خوب سرخیاں بٹور رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عوامی نمائندوں کے مطالبہ پر بندروں کو پکڑنے سے متعلق پرانے رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے بندروں کو پکڑنے پر 300 روپے دیے جاتے تھے، جسے اب بڑھا کر دو گنا کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
درحقیقت شہروں اور دیہات میں ریسس مکاک اور ہنومان لنگوروں نے شدید مسئلہ کھڑا کر رکھا ہے۔ کونکن اور مغربی مہاراشٹر کے علاقوں میں بندروں نے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ یہاں بندر نہ صرف لوگوں پر حملے کر رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف رتناگیری علاقہ میں گزشتہ 2 سے 3 برسوں میں بندروں کے حملوں اور نقصان کے 5600 سے زائد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
Published: undefined
بندروں کے حملوں سے عام زندگی کافی متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی لوگ بندروں کو پکڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن پرانی شرح یعنی 300 روپے کے عوض کوئی بھی اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار نہیں تھا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اب بندروں کو محفوظ طریقے سے پکڑنے کی رقم بڑھا کر 600 روپے فی بندر کر دی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اب ریسکیو ٹیمیں اور مقامی لوگ زیادہ سرگرمی سے آگے آئیں گے اور بندروں کو قابو میں لانے میں مدد کریں گے۔
Published: undefined
یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ محکمۂ جنگلات نے واضح کیا ہے کہ بندروں کو پکڑنے کے دوران انہیں معمولی خراش بھی نہیں آنی چاہیے۔ بندروں کو اس مقام سے کم از کم 10 کلومیٹر دور جنگل میں چھوڑنا ہوگا جہاں سے انہیں پکڑا گیا ہو۔ اس عمل کے دوران محکمۂ جنگلات کے کسی افسر یا فاریسٹ گارڈ کی موجودگی لازمی ہوگی۔ اس کے علاوہ ثبوت کے طور پر تصاویر اور ویڈیوز محکمہ کو جمع کرانا ہوں گی، تب ہی انعام کی رقم ادا کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined