
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال / آئی اے این ایس
الپپوزا سائبر کرائم پولیس نے پیر (28 ستمبر) کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کو نشانہ بنا کر سوشل میڈیا پر مسلسل منفی تشہیر اور سائبر حملے کرنے کے معاملے میں 5 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ کانگریس لیڈر اور وکیل جانسن ابراہم کی شکایت پر پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اور ان کی پوسٹ کے بارے میں معلومات جمع کر لی گئی ہیں اور جلد ہی ان سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر 11 مئی سے 19 جولائی کے درمیان الگ الگ تاریخوں پر کانگریس لیڈر وینوگوپال کو نشانہ بناتے ہوئے توہین آمیز اور قابل اعتراض پوسٹس کیں۔
رپورٹس کے مطابق ان پانچوں افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور کیرل پولیس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر دشمنی پیدا کرنے یا اسے بڑھاوا دینے کے ارادے سے غلط معلومات پھیلانے، فساد بھڑکانے کے ارادے سے جان بوجھ کر یا بدنیتی سے غیر قانونی اشتعال دلانے اور ہنگامہ آرائی کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ پوسٹس اس وقت کی گئی تھیں جب ریاستی اسمبلی انتخاب میں یو ڈی ایف کی جیت کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار کو لے کر بحث جاری تھی۔ اس عہدہ کے لیے جن لوگوں کے ناموں پر بحث چل رہی تھی ان میں کے سی وینوگوپال کا نام بھی شامل تھا اور ملزمان نے سوشل میڈیا پر ان کی امیدواری کی مخالفت کرتے ہوئے پوسٹس کی تھیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان اور ان کی پوسٹس کے بارے میں معلومات اکٹھی کر لی گئی ہیں اور جلد ہی ان سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔
کیرلم کے وزیر داخلہ رمیش چینی تھلا کی ہدایت پر سائبر ونگ کے آئی جی کو جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جانسن ابراہم نے شکایت کے ساتھ سائبر حملے کو انجام دینے والے 5 سوشل میڈیا ہینڈل کی جانکاری بھی دی تھی۔ جانسن نے 5 ماہ قبل ریاستی پولیس کے سربراہ کو شکایت درج کرائی تھی۔ کوئی کارروائی نہ ہونے پر انہوں نے وزیر داخلہ رمیش چینی تھلا کو ایک میمورنڈم پیش کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔