قومی خبریں

’سیاہ فام‘ یا ’موٹے جسم والا‘ کہنا طلاق کی بنیاد نہیں، چھتیس گڑھ ہائی کورٹ سے شوہر کی اپیل مسترد

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے کہا کہ بیوی کا شوہر کو سانولے رنگ یا موٹے جسم والا کہنا، اپنے آپ میں طلاق کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے شوہر کے ظلم و ترکِ تعلق کے الزامات کو ثبوت سے عاری قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>چھتیس گڑھ ہائی کورٹ</p></div>

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ

 

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے طلاق کے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بیوی کا شوہر کو ’سانولے رنگ کا‘ یا ’موٹے جسم والا‘ کہنا، اپنے آپ میں طلاق دینے کے لیے کافی بنیاد نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ محض الزامات کی بنیاد پر ازدواجی ظلم ثابت نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہیں۔

جسٹس پارتھ پرتیم ساہو اور جسٹس سچن سنگھ راجپوت پر مشتمل دو رکنی بنچ نے شوہر کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ شوہر نے اپنی بیوی پر ازدواجی ظلم اور ترکِ تعلق کے الزامات عائد کرتے ہوئے طلاق کی درخواست کی تھی، تاہم ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ وہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ فیصلہ 18 ستمبر 2026 کو سنایا گیا۔

دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق جوڑے کی شادی مارچ 2019 میں ہوئی تھی۔ شوہر کی عمر 28 سال اور بیوی کی 25 سال تھی۔ شوہر کا دعویٰ تھا کہ شادی کے بعد بیوی نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی اور اکثر اپنے میکے چلی جاتی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ بیوی اسے سانولے رنگ اور موٹے جسم والا کہہ کر طعنے دیتی تھی۔

عدالت نے اس دعوے پر واضح کیا کہ کسی شخص کو اس کے رنگ یا جسمانی ساخت کے حوالے سے پکارنے کا الزام، اس معاملے کے حالات میں، اکیلے طلاق کی ڈکری دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ بنچ نے یہ بھی پایا کہ شوہر اپنی بیوی کی جانب سے ازدواجی ظلم کیے جانے کا دعویٰ قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہیں کر سکا۔

شوہر نے عدالت کو بتایا تھا کہ شادی کے بعد بیوی تقریباً دو سے تین ماہ تک اس کے اور اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہی۔ اس کے بعد وہ بار بار اپنے میکے جاتی رہی اور بالآخر دونوں دسمبر 2019 سے الگ رہنے لگے۔ شوہر کا کہنا تھا کہ وہ ازدواجی رشتہ برقرار رکھنا چاہتا تھا، لیکن بیوی اس رشتے کو جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

دوسری جانب بیوی نے شوہر کے الزامات کی تردید کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ شوہر کا کسی دوسری خاتون کے ساتھ تعلق تھا اور اس کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد وہ شراب پی کر اسے گالیاں دیتا اور مبینہ طور پر مارپیٹ بھی کرتا تھا۔ بیوی نے یہ بھی کہا کہ حمل کے دوران شوہر نے اس کے علاج معالجے پر مناسب توجہ نہیں دی۔

عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ خاتون کو حمل کے دوران صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور بعد میں اس کا حمل ضائع ہوگیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس کے بعد جب اس کی والدہ اسے اپنے ساتھ لے جانے آئیں تو شوہر کے اہلِ خانہ نے اسے ان کے ساتھ میکے بھیج دیا۔ بنچ نے کہا کہ شوہر یہ ثابت نہیں کر سکا کہ بیوی نے بلاجواز اور مستقل طور پر ازدواجی رشتہ ختم کرنے کی نیت سے گھر چھوڑا تھا۔

فیملی کورٹ نے اگست 2024 میں شوہر کی طلاق کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے بیوی کے والدین کی جانب سے دیے گئے استری دھن یعنی شادی کے موقع پر دیے گئے سامان اور تحائف بھی ایک ماہ کے اندر واپس کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف شوہر نے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیملی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا اور شوہر کی اپیل خارج کر دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔