قومی خبریں

کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو دی بڑی راحت، گرفتاری وارنٹ کیا منسوخ

مہوا موئترا نے گرفتاری وارنٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا اور عدالت نے گزشتہ سماعت میں وارنٹ پر عمل درآمد کرنے پر عبوری روک لگا دی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>مہوا موئترا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

مہوا موئترا، تصویر آئی اے این ایس

 

کلکتہ ہائی کورٹ نے پیر کو کرشنا نگر سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف مغربی بنگال کے ندیا ضلع کی ایک عدالت کے ذریعہ جاری گرفتاری وارنٹ کو منسوخ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں جسٹس دیبانگشو بساک کی صدارت والی ڈویژن بنچ نے متعلقہ معاملے کو کرشنا نگر ضلعی عدالت کے دائرہ اختیار سے ہٹا کر شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بدھان نگر واقع ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں ٹرانسفر کر دیا۔ ساتھ ہی اس معاملے میں کرشنا نگر ضلعی عدالت کے دیگر متعلقہ احکامات کو بھی منسوخ کر دیا۔

واضح رہے کہ کرشنا نگر سے 2 بار رکن پارلیمنٹ رہیں مہوا موئترا پر ہندوستانی فوج اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارے میں متنازعہ اور توہین آمیز تبصرہ کرنے کا الزام تھا۔ اس کے علاوہ تلسی کی لکڑی کی مالا، برقعہ اور حجاب پہننے والی خواتین کے متعلق ان کے کچھ تبصروں نے بھی تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ کرشنا نگر کے ایک رہائشی نے رکن پارلیمنٹ کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ان پر خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچانے، مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان تنازعہ پیدا کرنے، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کا الزام تھا۔ کرشنا نگر عدالت نے اس معاملے میں مہوا موئترا کو کئی بار سمن بھیجا تھا، لیکن ان کے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔

مہوا موئترا نے گرفتاری وارنٹ کو چیلنج دیتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا اور عدالت نے گزشتہ سماعت میں وارنٹ پر عمل درآمد کرنے پر عبوری روک لگا دی تھی۔ آج دوپہر کو معاملے کی پھر سماعت ہوئی اور اس بار ڈویژن بنچ نے وارنٹ منسوخ کر دیا اور متعلقہ معاملے کو ٹرانسفر بھی کر دیا۔ دراصل مہوا موئترا کے وکیل ارک ناگ نے پہلے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا کرشنا نگر کی عدالت کو ان کے خلاف معاملے کی سماعت کا حق ہے، کیونکہ وہ ایک رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ان کے خلاف متعقلہ معاملے کی سماعت ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں ہونی چاہیے۔ ڈویژن بنچ نے ان کی دلیل قبول کر لی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔