قومی خبریں

’بریک اَپ عام بات ہے، اسے خودکشی کے لیے اکسانا نہیں مانا جا سکتا‘، دہلی ہائی کورٹ نے نور محمد کو دی ضمانت

سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پیش کی گئی لڑکی کی ذاتی ڈائری میں اس نے ملزم سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن کہیں بھی مذہب تبدیل کرنے کے دباؤ کا ذکر نہیں کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

دہلی ہائی کورٹ نے خودکشی کے معاملے کی سماعت کے دوران بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صرف بریک اپ ہونا بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کے دفعہ 108 کے تحت اکسانے کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے ملزم کو ضمانت دے دی۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ’’آج کے وقت میں بریک اپ اور دل ٹوٹنے کے واقعات عام ہو گئے ہیں، لیکن صرف رشتہ ٹوٹنا اپنے آپ میں اکساوے کا ثبوت نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

عدالت نے کہا کہ محض محبت کا رشتہ ٹوٹنے کو اپنے آپ میں خودکشی کے لیے  اکسانے کا جرم نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر فی الحال خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ پہلی نظر میں ثابت نہیں ہوتا ہے۔ جسٹس منوج جین نے واضح کیا کہ خودکشی کے لیے ’اکسانے‘ کا جرم صرف اس صورت میں سامنے آتا ہے جب ملزم کا عمل ایسا ہو کہ متاثرہ کے پاس جان دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ بچے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پیش کی گئی لڑکی کی ذاتی ڈائری میں اس نے ملزم سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن کہیں بھی مذہب تبدیل کرنے کے دباؤ کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اس کے دوستوں کے بیانات میں یہ سامنے آیا کہ نوجوان کے کسی اور سے شادی کر لینے کے بعد وہ بہت افسردہ تھی۔ حالانہ دوستوں نے اپنے بیان میں مذہب کی تبدیلی کے لیے کسی شرط یا دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دونوں کے درمیان بات چیت بند ہونے اور لڑکی کی خودکشی کے درمیان کافی دنوں کا فرق تھا۔ لیکن عدالت نے مانا کہ یہ ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کا معاملہ ہے، جس میں لڑکی اپنے پارٹنر کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر شاید صدمہ برداشت نہیں کر پائی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اکتوبر 2025 میں ایک 27 سالہ لڑکی نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ لڑکی کے والد نے بعد میں پولیس میں شکایت درج کرتے ہوئے نور محمد نامی نوجوان کے خلاف الزام عائد کیا کہ اس نے شادی کے لیے مذہب کی تبدیلی کی شرط رکھی تھی اور اسی دباؤ میں ان کی بیٹی نے خود کشی کی۔ شکایت کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

Published: undefined

ضمانت کی عرضی پر سماعت کے دوران ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ 8 سال سے لڑکی کے ساتھ رشتے میں تھا اور دونوں نے شادی کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔ حالانکہ دونوں کے الگ الگ مذاہب ہونے کی وجہ سے خاندان والے اس رشتے کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے دونوں الگ ہو گئے تھے۔ جب نور محمد نے دوسری جگہ شادی کر لی، تو اس کے 5 روز بعد لڑکی نے خودکشی کر لی تھی۔ ملزم نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کی موت اس کے کسی دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined