
پرالی جلانے کا منظر، تصویر آئی اے این ایس
پنجاب میں پرالی جلانے سے ہوا میں مضر ’بلیک کاربن‘ کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، پی جی آئی اور آئی آئی ٹی دہلی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیہی علاقوں کی ہوا میں موجود بلیک کاربن کا 48 فیصد حصہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہوتا ہے۔
خریف کے موسم میں کھیتوں کے آس پاس ہوا کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ اس میں پایا گیا کہ مجموعی بلیک کاربن میں تقریباً نصف حصہ پرالی کے دھوئیں کا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ پنجاب میں پرالی جلانے سے ہونے والی آلودگی نہ صرف دہلی-این سی آر بلکہ ہریانہ، اتر پردیش اور آس پاس کی ریاستوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔