قومی خبریں

’بی جے پی کی واشنگ مشین پھر سے فعال ہو گئی ہے‘، راگھو چڈھا کے بی جے میں شامل ہونے پر کانگریس کا ردعمل

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’جو لوگ خود کو شرافت، ایمانداری اور نظریات کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے تھے، وہ اب بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

جئے رام رمیش / آئی اے این ایس

 

راگھو چڈھا اور سندیپ پاٹھک سمیت عام آدمی پارٹی کے 7 راجیہ سبھا اراکین نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ جمعہ (24 اپریل) کو پیش آئے اس واقعہ نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب اس معاملہ پر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اس معاملہ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’بی جے پی کی واشنگ مشین پھر سے فعال ہو گئی ہے، ساتھ ہی مودی واشنگ پاؤڈر بھی۔‘‘

Published: undefined

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کانگریس لیڈر مزید لکھتے ہیں کہ ’’جو لوگ خود کو شرافت، ایمانداری اور نظریات کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے تھے، وہ اب بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔‘‘ جے رام رمیش کے علاوہ بہار کے کٹیہار سے کانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انور کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی پہلے خود کو نظریاتی کہتی تھی لیکن اب وہ صرف اپنی پارٹی کی توسیع کر رہی ہے۔ وہ بھی ایسے لوگوں سے جو ’دَل بدلو‘ ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ بی جے پی ’دَل بدلوؤں‘ کی پارٹی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ تمام پارٹیوں سے مفاد پرست لوگ، جنہیں نظریات سے کوئی لینا دینا نہیں، ویسے لوگ بی جے پی میں جا رہے ہیں۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا اور سندیپ پاٹھک نے جمعہ کو بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور پارٹی کے 5 دیگر راجیہ سبھا اراکین بی جے پی میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ راگھو چڈھا نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ آئین کے قوانین کے مطابق اگر کسی پارٹی کے دو تہائی اراکین پارلیمنٹ ایک ساتھ دوسری پارٹی میں جانے کا فیصلہ کریں تو اسے ’قانونی انضمام‘ مانا جاتا ہے۔ چڈھا نے جن دیگر اراکین پارلیمنٹ کے بی جے پی میں شامل ہونے کی بات کہی تھی، ان میں ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم ساہنی، سواتی مالیوال اور اشوک متل کے نام شامل تھے۔

Published: undefined

دوسری جانب عآپ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ راجیہ سبھا کے 3 اراکین راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر نااہل قرار دینے کا عمل شروع کریں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں راجیہ سبھا چیئر مین کو ایک خط سونپوں گا، جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ سے راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک کی راجیہ سبھا رکنیت ختم کی جائے۔ کیونکہ یہ آئین کے دسویں شیڈول کے تحت اپنی اصل پارٹی کی رکنیت رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined