قومی خبریں

نتیش کمار کے ذات پر مبنی مردم شماری کارڈ سے بی جے پی حیران و پریشان

نتیش کمار کی نئی او بی سی سیاست سے بی جے پی خوفزدہ ہے۔ اگرچہ 2014 کے پارلیمانی چناؤ سے اب تک بیشتر ووٹر بی جے پی کو ووٹ دیتے رہے ہیں، پھر بھی بی جے پی ذات پر مبنی مردم شماری کرواتے ہوئے گھبرا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>نتیش کمار، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

نتیش کمار، تصویر آئی اے این ایس

 

ذات ہندوستانی سیاست کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔ جی ہاں، ذات کا تعلق مذہب، سماج اور سیاست سے ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے کہ جس سے برصغیر ہند کے مسلمان بھی نہ بچ سکے، جبکہ اسلام انسانی اونچ نیچ کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ہے۔ چونکہ ذات اور ہندوستانی ووٹر آپس میں اس قدر گھل مل جاتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اس حقیقت سے منھ نہیں موڑ پاتی۔ پچھلی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ جو گزرا ہے اس میں ہندوستان کے ہر چناؤ میں ذات پات کا گہرا اثر رہا۔ سنہ 1990 میں وی پی سنگھ نے ذات کی بنیاد پر پسماندہ ذاتوں (او بی سی) کو سرکاری نوکریوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں 27 فیصد ریزرویشن کیا دے دیا، تب سے کچھ ساری پارٹیاں ذات اور خصوصاً او بی سی کے مجموعی ووٹ حاصل کر آسانی سے چناؤ جیتتی چلی آ رہی ہیں۔ بہار اور اتر پردیش او بی سی سیاست کا گڑھ بن گئے۔ وہاں (بہار میں) لالو پرساد یادو اور اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو (ایم-وائی یعنی مسلم-یادو فارمولہ سے) پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے چناؤ جیتتے چلے آ رہے ہیں۔ اتر پردیش میں ایم-وائی سیاست کو محض دلت لیڈر مایاوتی ٹکر دے سکیں اور ملائم سنگھ یادو کو چناؤ میں ہرا کر صوبہ کے اقتدار پر قابض ہو سکیں۔ لیکن مایاوتی نے بھی اپنے حریف کی شکست کے لیے مسلم-دلت کارڈ استعمال کیا۔ اور جب جب وہ کارڈ چل گیا تب تب ملائم سنگھ کی پارٹی چناؤ ہار گئی۔

ایسا نہیں کہ باقی پارٹیاں ذات پات پر مبنی سیاست سے پرہیز کرتی ہیں۔ مثلاً بی جے پی ہندوتوا سیاست میں یقین رکھنے کے باوجود او بی سی کارڈ کا استعمال اتر پردیش اور بہار میں کرتی رہی اور کامیاب بھی ہوئی۔ مثلاً یوپی میں بی جے پی نے کلیان سنگھ کو آگے کر یہ سگنل دیا کہ وہ رام مندر ایشو کے ساتھ پچھلی ذاتوں کا خاص خیال رکھتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کلیان سنگھ یوپی میں بی جے پی کے سب سے قدآور لیڈر بن گئے۔ ساتھ ہی کلیان سنگھ نے صوبہ میں رام مندر تحریک میں کھل کر حصہ لیا۔ دراصل سنہ 1992 میں بابری مسجد انہی کے دور حکومت میں گرائی گئی۔ سیاسی اعتبار سے ہندوتوا اور او بی سی کارڈ کا استعمال کر بی جے پی پہلی بار یوپی کے اقتدار پر قبضہ جمانے میں کامیاب رہی۔

ایسا ہی کچھ بہار میں بھی ہوا۔ ایک مدت تک جب بہار میں لالو پرساد کی پارٹی کو کوئی بھی اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو یکایک لالو یادو کی پارٹی ٹوٹ گئی۔ اور اس ٹوٹ پھوٹ کی وجہ نتیش کمار رہے۔ حالانکہ نتیش لالو کے گہرے دوست بھی تھے، لیکن لالو ان کو صوبہ کا وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ہی نہیں دے رہے تھے۔ نتیش کمار دیکھتے دیکھتے بہار کے قدآور لیڈر بن گئے اور آخر انھوں نے لالو یادو کو چناؤ میں ہرا بھی دیا۔ لالو کی طرح نتیش خود بھی او بی سی سے تھے اور انھوں نے بھی چناؤ جیتنے کے لیے او بی سی کارڈ کا استعمال کیا تھا۔ لیکن انھوں نے بھی اقتدار تک پہنچنے کے لیے بی جے پی کا دامن پکڑا اور کامیاب رہے۔ یعنی بہار میں بھی یوپی کی طرح ہندوتوا اور او بی سی ووٹ بینک مل کر ایک نئی سیاست چلانے میں کامیاب رہے۔

نتیش کمار ایک انتہائی ambitious لیڈر ہیں۔ اب ان کی آنکھیں وزیر اعظم کی کرسی پر لگی ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس کے لیے ان کو پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ تب ہی تو انھوں نے پہلے بہار میں بی جے پی سے دامن چھڑا کر لالو یادو کی پارٹی کے ساتھ مل کر چناؤ جیتا اور اب وہ بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس طرح بہار میں تین بڑے ووٹ بینکوں (غیر یادو، پسماندہ ذاتیں، یادو اور مسلمان) کا اتحاد کامیاب ہے۔ لیکن وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنے کے لیے نتیش کمار کو اور بھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے بہار میں او بی سی سیاست کا رنگ اور تیکھا کر دیا۔ وہ بہار میں اب او بی سی ذاتوں کی مردم شماری کے علمبردار بن گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بہار حکومت نے صوبہ میں او بی سی ریزرویشن کا کوٹہ 30 فیصد سے بڑھا کر 43 فیصد کرنے کا راستہ ہموار کر دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے مرکزی حکومت سے یہ مانگ کر ڈالی کہ ملک بھر میں ذات پر مبنی مردم شماری فوراً ہو۔

نتیش کمار کی نئی او بی سی سیاست سے بی جے پی گھبرا گئی ہے۔ حالانکہ سنہ 2014 کے پارلیمانی چناؤ سے اب تک زیادہ تر ووٹر بی جے پی کو ووٹ دیتا رہا ہے۔ پھر بھی بی جے پی ذات پر مبنی مردم شماری کرواتے ہوئے گھبرا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ ان کی پارٹی او بی سی مردم شماری کے لیے تیار ہے لیکن بی جے پی یہ کام جلدی میں نہیں کروا سکتی۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کا یہ دوغلا اسٹینڈ تمام او بی سی ووٹر کو قومی سطح پر پسند آنے والا نہیں ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی مخالف ’انڈیا اتحاد‘ کی بیشتر پارٹیاں بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ کر رہی ہیں۔ اس طرح او بی سی ووٹ بینک کو قومی سطح پر بی جے پی کا نعم البدل ایک نیا پلیٹ فارم مل جائے گا۔ ظاہر ہے کہ سنہ 2024 کے چناؤ میں اگر انڈیا اتحاد او بی سی اور دیگر سوشل گروہ کے اتحاد سے کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے نتیش کمار کا قد صوبائی لیڈر سے بڑھ کر قومی لیڈر کا ہو جائے گا۔ اس صورت میں نتیش کمار وزیر اعظم کی کرسی کے دعویدار بن جائیں گے۔ نتیش کمار کی اس ایک چال نے فی الحال بی جے پی کے ہوش اڑا دیے ہیں، اور وہ ذات پر مبنی مردم شماری سے گھبرا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔