قومی خبریں

بہار میں بڑھتے جرائم اور لاپروا انتظامیہ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ بھی تشویش میں مبتلا، کانگریس نے شیئر کی ویڈیو

کانگریس نے کہا کہ ’’بہار میں حالات اتنے خراب ہیں کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ خود جنگل راج کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ سوچیے، جب رکن پارلیمنٹ کا یہ حال ہے تو بہار میں عوام کی کیا سماعت ہو رہی ہوگی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری</p></div>

بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری

 
تصویر آئی اے این ایس

’’بہار میں لاء اینڈ آرڈر تباہ ہو چکا ہے، لیکن میں کیمرے پر زیادہ بول نہیں سکتا۔ ایک لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا تو ہم نے ایس پی کو فون کیا، لیکن انھوں نے ہمارا فون تک نہیں اٹھایا۔ بہار میں جرائم پیشوں میں قانون کا خوف نہیں ہے۔‘‘ یہ بیان بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن شمبھو شرن پٹیل نے دیا ہے، جس کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے ریاست کی سمراٹ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بہار میں حالات اتنے خراب ہیں کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ خود جنگل راج کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ سوچیے، جب رکن پارلیمنٹ کا یہ حال ہے تو بہار میں عوام کی کیا سماعت ہو رہی ہوگی۔‘‘

دراصل بہار میں گزشتہ کچھ دنوں سے لگاتار لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ سامنے آ رہا ہے، لیکن بہار کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت صرف بیان بازی میں مصروف ہے۔ جموئی، سمستی پور اور بانکا کے بعد آج آرہ میں 19 سالہ لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک آٹو رکشہ پر بیٹھی 19 سالہ لڑکی کو چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ آٹو رکشہ والے نے نازیبا سلوک کیا، جس کی وجہ سے وہ چلتے آٹو سے کود گئی۔ زخمی حالت میں ہی اس نے اپنے گھر والوں کو فون کیا، اور پولیس کو خبر کی گئی۔ بعد ازاں آٹو رکشہ کو حراست میں لے کر کارروائی شروع ہو گئی، لیکن اس طرح کے لگاتار ہو رہے واقعات نے بہار کی خواتین میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ شمبھو شرن پٹیل کے بیان نے بہار میں جرائم کے بڑھتے واقعات کو لے کر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق شمبھو شرن نے ہفتہ کے روز بہار پولیس پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جرائم پیشے بے خوف ہو چکے ہیں، ان کے دل سے قانون کا ڈر ختم ہو گیا ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ریاست میں اچھے ڈی جی، ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کی ضرورت ہے تاکہ پولیسنگ کو درست کیا جا سکے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک لڑکی کے ساتھ حادثہ ہونے کے بعد انھوں نے متعلقہ پولیس افسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن فون پر بات نہیں ہو سکی۔ رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ پٹنہ ایس ایس پی نے ان کا فون نہیں اٹھایا، اور اب تک اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔