
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بی جے پی کی جانب سے منعقدہ ’ماک پارلیمنٹ‘ (فرضی پارلیمنٹ) پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکمراں جماعت 2014 سے مسلسل پارلیمنٹ جیسے اہم جمہوری ادارے کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر پارلیمانی جمہوریت کا مذاق اڑانے اور اہم قوانین کو مناسب بحث کے بغیر منظور کرانے کا الزام بھی عائد کیا۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے ماک پارلیمنٹ کا انعقاد کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے بلوں کو زبردستی منظور کرانے، عوامی اہمیت کے معاملات پر بحث سے گریز کرنے، پارلیمانی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور دونوں ایوانوں کو اپنی تعریف کے لیے استعمال کرنے کے ذریعے بارہا پارلیمانی جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے۔
کانگریس رہنما نے خاص طور پر دسمبر 2023 میں منظور کیے گئے اس قانون کا حوالہ دیا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے بعض اقدامات کے سلسلے میں قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے 145 ارکان معطل تھے، اس کے باوجود یہ قانون منظور کر لیا گیا۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا، تاکہ کروڑوں ہندوستانیوں کو ان کے آئینی حق رائے دہی سے محروم کیا جا سکے۔ ان کا یہ بیان ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کو لے کر اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
انڈیا بلاک چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ ووٹ چوری کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف پروگرام بھی منعقد کیے ہیں، جن میں ماک پارلیمنٹ کا اجلاس بھی شامل ہے۔
دوسری جانب بی جے پی ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی مقررہ قواعد کے مطابق چلائی جاتی ہے اور الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ حکمراں جماعت نے اپوزیشن کی مہم کو انتخابی شکست کے بعد آئینی اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
دریں اثنا، بی جے پی سے وابستہ تنظیم ’سٹیزنس فار ڈیموکریسی‘ نے 30 اکتوبر کو نئی دہلی کے این ڈی ایم سی کنونشن سینٹر میں ’جمہوریت بمقابلہ انتشار‘ کے موضوع پر ماک پارلیمنٹ کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے سینئر سیاسی رہنماؤں کے کردار ادا کیے۔ جے رام رمیش کا بیان پارلیمنٹ میں بحث کے مواقع، قانون سازی کے طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کی آزادی سے متعلق اپوزیشن کے وسیع تر اعتراضات کی عکاسی کرتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔