
نئی دہلی: کانگریس نے گروگرام میں مانسون کے دوران شدید آبی جماؤ، ٹریفک جام اور بنیادی شہری سہولتوں کی بدحالی کے لیے ہریانہ کی بی جے پی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکمراں جماعت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن دیپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ جو گروگرام کبھی دنیا کی معروف 500 کمپنیوں کی پہلی پسند ہوا کرتا تھا، وہ بی جے پی کے 12 سالہ دور حکومت میں بدحالی کا شکار ہو گیا ہے۔
کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہڈا نے الزام عائد کیا کہ شہر میں صفائی اور ڈرینیج نظام کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال آبی جماؤ سے نمٹنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر کے کال سینٹر قائم کرتی ہے، لیکن جب شہر میں پانی بھر جاتا ہے اور ٹریفک جام لگتا ہے تو لوگوں کی مدد کے لیے فون تک نہیں اٹھایا جاتا۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ نایب سنگھ سینی اور مرکزی وزیر و گروگرام کے رکن پارلیمنٹ راؤ اندر جیت سنگھ کو بھی نشانہ بنایا۔ ہڈا نے کہا کہ راؤ اندر جیت سنگھ گزشتہ 12 برس سے مسلسل اقتدار میں ہیں اور اس سے پہلے کانگریس کے دور میں بھی 10 سال تک رکن پارلیمنٹ رہے، اس کے باوجود شہر کا ڈرینیج نظام آج تک درست نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ناکامیوں کا ٹھیکرا سابقہ حکومتوں پر پھوڑنا بی جے پی کی پرانی عادت بن چکی ہے۔
ہڈا نے دعویٰ کیا کہ 7 اگست کو آبی وسائل سے متعلق مسائل پر وزیر آبی طاقت کی صدارت میں ہریانہ کے ارکان پارلیمنٹ کی جائزہ میٹنگ ہوئی، جس میں 10 میں سے 9 ارکان موجود تھے، لیکن گروگرام کے رکن پارلیمنٹ راؤ اندر جیت سنگھ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نایب سنگھ سینی کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ ’’کیلیفورنیا میں بھی سیلاب آتا ہے‘‘ اور کہا کہ اس طرح کے بیانات حکومت کی جواب دہی سے بچنے کی کوشش ہیں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے کی ناکامی اور آبی جماؤ کے باعث 12 افراد کی جان جا چکی ہے۔ شہر میں طویل ٹریفک جام معمول بن چکے ہیں اور لوگ گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ٹاور کے باہر بھی آبی جماؤ ہو رہا ہے، جبکہ کچرے کے مسئلے کے باعث گروگرام ’کूڑاگرام‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ہڈا نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دوران گروگرام میں فارچیون 500 کمپنیوں کی آمد ہوئی، میٹرو کو شہر تک لانے کا کام ہوا، گروگرام-فریدآباد فور لین ہائی وے تعمیر کیا گیا، گروگرام یونیورسٹی قائم ہوئی، پانی کی فراہمی کے لیے گروگرام کینال بنائی گئی، گالف کورس روڈ کو ترقی دی گئی اور دوارکا ایکسپریس وے کا 63 فیصد کام مکمل کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گروگرام میں ای ڈی سی اور آئی ڈی سی کے ذریعے جمع کیے گئے 15 ہزار کروڑ روپے کا کیگ سے آڈٹ کرایا جائے اور معلوم کیا جائے کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔ ان کے مطابق یہ رقم گروگرام کی ترقی پر ہی خرچ ہونی چاہیے اور جی ایم ڈی اے، ایم سی جی اور ایچ ایس وی پی سمیت تینوں متعلقہ اداروں کی جواب دہی طے کی جانی چاہیے۔
ہڈا نے کہا کہ مرکز، ریاست اور میونسپل کارپوریشن تینوں سطحوں پر بی جے پی برسوں سے اقتدار میں ہے، اس لیے ’ٹرپل انجن‘ حکومت کو شہر کی بدحالی کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گروگرام ملک میں سب سے زیادہ جی ایس ٹی جمع کرنے والے شہروں میں شامل ہے، اس لیے مرکز کو یہاں کے مسائل حل کرنے کے لیے مناسب بجٹ فراہم کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت کے چھ سالہ دور میں گروگرام میں 33 کلومیٹر میٹرو تعمیر ہوئی، جبکہ گزشتہ 12 برس میں ایک انچ بھی میٹرو کا کام نہیں ہوا۔ انہوں نے میٹرو کی توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل اٹھانے والے کانگریسی کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی اور پُرامن مظاہرین کو حراست میں لینا حکومت کی آمرانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز