
اشوک گہلوت / تصویر: ’ایکس‘ ashokgehlot51@
راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے بنگال میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہوئے حملے کی سخت مذمت کی۔ جے پور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران اشوک گہلوت نے کہا کہ ’’اس واقعہ نے بی جے پی اور سنگھ کے کردار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جب سے ٹی ایم سی کو انتخاب میں شکست ہوئی ہے تب سے وہاں غنڈہ گردی عروج پر ہے۔‘‘
Published: undefined
اشوک گہلوت نے مزید کہا کہ ’’آر ایس ایس-بی جے پی کی چال، ان کے کردار اور چہرے والے لوگ پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ وہاں گلی گلی میں غنڈہ گردی ہو رہی ہے، ٹی ایم سی کے دفاتر پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور ان پر قبضے کروائے جا رہے ہیں۔ بنگال کے اندر جاری سرگرمیوں کو پورا ملک دیکھ رہا ہے، تو پھر حکومت کیوں خاموش ہے؟ حکومت بدلتے ہی پولیس خود بدل جاتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ اقتدار میں بیٹھی حکومت کی بات ماننا ان کی مجبوری ہوتی ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر بی جے پی بنگال میں داخل ہو گئی تو پورا ملک مایوس ہوگا۔ میں نے یہ سوچ سمجھ کر کہا تھا کیونکہ بنگال کی اپنی ایک الگ ثقافت ہے۔ بی جے پی خود داخل نہیں ہوئی بلکہ الیکشن کمیشن نے اسے موقع دیا ہے۔ کمیشن نے وہاں ڈھائی لاکھ اہلکار تعینات کر دیے، جبکہ پورے ملک کے انتخابات میں بھی صرف 3 لاکھ اہلکار لگتے ہیں۔ یوپی کے آئی پی ایس افسر محلوں میں جا کر لوگوں کو دھمکا رہے تھے، جبکہ ان کا کام صرف نگرانی کرنا ہوتا ہے، دھمکانا نہیں۔
Published: undefined
سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق انتخاب میں 27 لاکھ لوگوں کو ووٹ دینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس لیے انتخاب کو کچھ مہینوں کے لیے ملتوی کر دینا چاہیے تھا۔ اچھے صحافی اور سوشل میڈیا پر دانشور بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی اس پر تبصرہ کیا ہے۔ ایک بھی شہری کا ووٹ چھیننا غلط ہے۔ ووٹ دینے کا حق کسی سے بھی نہیں چھینا جانا چاہیے۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے متعلق اشوک گہلوت نے کہا کہ ملک کی صورتحال اب بہت خراب ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت خود کو ڈبل انجن کی حکومت کہتی ہے لیکن بنگال میں وہ ڈبل انجن لوگوں پر ڈبل مار کے طور پر پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ڈبل انجن کی حکومت بنے گی تو ترقی ہوگی لیکن وہی ڈبل انجن آج غنڈہ گردی اور ظلم کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
Published: undefined
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اشوک گہلوت نے مزید کہا کہ پورے ملک کے لوگوں خاص طور سے نوجوان نسل کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ملک کس سمت میں جا رہی ہے اور ہمیں کیسے نظریات اپنانے چاہئیں۔ میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طلبہ اور نوجوان سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیں۔ وہ کسی بھی پارٹی میں جائیں، یہ ان کی مرضی ہے لیکن کم از کم ان کے لیے یہ سوچنا اور سمجھنا ضروری ہے کہ ملک کا صحیح نظریہ کیا ہونا چاہیے۔ نوجوانوں اور طلبہ کو نظریے کی بنیاد پر غور و فکر کرنا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined