
بہار کے بھوجپور کے مشہور بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں جگدیش پور سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او)، شاہ پور کے تھانہ انچارج سمیت انکاؤنٹر میں شامل دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف شاہ پور تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی انکاؤنٹر کو لے کر اٹھنے والے سوالات اور اہل خانہ کی شکایات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ معاملے کی تحقیقات پہلے ہی مختلف سطحوں پر چل رہی ہے اور اب پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات نے نیا موڑ لے لیا ہے۔
Published: undefined
غورطلب ہے کہ بھرت تیواری کی پولیس انکاؤنٹر میں موت کے بعد اہل خانہ اور گاؤں والوں نے کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر ریاست بھر میں سیاسی بیان بازی بھی ہوئی اور عدالتی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملہ میں اب تک 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ان میں اس وقت کے شاہ پور تھانہ انچارج راجیش کمار مالاکار، سب انسپکٹر انکت آرین، سب انسپکٹر ہریش چندر کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر راماشنکر یادو اور خاتون کانسٹیبل میرا کماری شامل ہیں۔
Published: undefined
بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی نے بھوجپور ایس پی کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کا بیٹا سیلاب متاثرین کے مسائل کو لے کر انتظامیہ کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہا تھا۔ واقعے والے دن کئی پولیس افسران اور اہلکار ان کے گھر پہنچے تھے اور بیٹے کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا تھا۔ آشا دیوی نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ پولیس کے سامنے ان کے بیٹے نے فیس بک لائیو کے دوران اپنے ہاتھ میں موجود ہتھیار پھینک دیا تھا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا اور کئی گولیاں ماریں۔ درخواست میں ماں آشا دیوی نے لکھا ہے کہ ان کے بیٹے کو 5 گولیاں ماری گئی ہیں۔ درخواست میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ جگدیش پور کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر کے حکم پر گولیاں ماری گئی ہیں۔
Published: undefined
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق متوفی کے بھائی چندن تیواری اور پورے خاندان نے صاف الفاظ میں کہا کہ انہیں حکومت کی عدالتی تحقیقات پر بھروسا نہیں ہے۔ ان کا الزام ہے کہ معاملے میں انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہمارا پورا خاندان خودسوزی کرے گا۔ ہم صرف تحقیقات نہیں، مجرموں کی سزا چاہتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
دوسری جانب بھرت تیواری کا موبائل اب تک پولیس کی طرف سے واپس نہ کیے جانے کے حوالے سے متوفی کے والد کاشی ناتھ تیواری نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ واقعے کے وقت نوجوان کے پاس 2 موبائل فون تھے۔ ان میں سے ایک موبائل اور اس کی موٹر سائیکل انہیں واپس کر دی گئی ہے، لیکن دوسرا ذاتی موبائل اب بھی پولیس کے قبضے میں ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined