
آئی اے این ایس
رائے پور: کانگریس کے سینئر رہنما بھوپیش بگھیل نے رام مندر میں نذرانے کی مبینہ خردبرد، ای-20 ایندھن کے نفاذ اور نکٹی گاؤں میں غریبوں کے مکانات گرائے جانے کے معاملے پر مرکزی اور ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر رام مندر سے متعلق ہر بڑے مرحلے کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے سر باندھا گیا تھا تو اب سامنے آئے الزامات پر ان کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
Published: undefined
رائے پور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بھُوپیش بگھیل نے کہا کہ رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ خردبرد سے متعلق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کی تفصیلات صحافیوں تک نہیں پہنچائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مندر کا سنگ بنیاد، بھومی پوجن، پران پرتشتھا اور ٹرسٹ کی تشکیل جیسے تمام اہم مراحل وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی اور قیادت میں انجام پائے تو اس معاملے پر ان کی جانب سے کوئی جواب کیوں نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ٹرسٹ اجلاس کر سکتا ہے تو وزیر اعظم اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
Published: undefined
ای-20 ایندھن کے بارے میں بھُوپیش بگھیل نے کہا کہ کسی بھی نئی پالیسی یا نئی ٹیکنالوجی کو نافذ کرنے سے پہلے مکمل آزمائش اور سائنسی مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو تمام بڑی گاڑی ساز کمپنیوں کی گاڑیوں پر اس ایندھن کے اثرات، اوسط ایندھن کی کھپت اور انجن کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر کامیابی کا کریڈٹ حکومت خود لیتی ہے تو پھر ای-20 ایندھن سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل کا الزام صرف نتن گڈکری پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
Published: undefined
نکٹی گاؤں میں غریب خاندانوں کے مکانات گرائے جانے کے معاملے پر بھی انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کو ریاست بھر میں پسند نہیں کیا گیا اور غریبوں کے مکانات منہدم کرکے وہاں ارکان اسمبلی کی رہائش گاہیں تعمیر کرنے کی کوشش عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔
بھوپیش بگھیل نے الزام لگایا کہ ابتدا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اس کارروائی کو انتظامیہ کا فیصلہ قرار دے رہی تھی، لیکن عوامی تنقید بڑھنے کے بعد اب اس کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے کبھی بھی غریبوں کے مکانات گرانے کی ہدایت نہیں دی تھی۔
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ بائیس سے تئیس افراد کو پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات ملے تھے، لیکن اب انہیں اچانک بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی انہدامی کارروائی سے پہلے نوٹس جاری کرنا، جواب طلب کرنا، زمین کی نوعیت کی جانچ کرنا اور متاثرہ خاندانوں کی مناسب باز آبادکاری یقینی بنانا ضروری تھا، مگر ان میں سے کوئی بھی قانونی اور انتظامی عمل اختیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے سابق حکومت کی کئی عوامی فلاحی اسکیمیں بند کر دیں اور اب انہی معاملات کا الزام بھی سابق حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined