قومی خبریں

’بھجن لال قرطاس ابیض جاری کریں‘، سی اے جی رپورٹ نے راجستھان کی بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

ٹیکارام جولی نے کہا کہ بھجن لال شرما کی جانب سے کانگریس کی 5 سالہ حکومت کا اپنی محض 2 سالہ مدت سے موازنہ کر کے جو گمراہ کن ماحول بنایا جا رہا تھا، وہ آج عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹیکارام جولی / آئی اے این ایس</p></div>

ٹیکارام جولی / آئی اے این ایس

 

راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکارام جولی نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں وہ جس حقیقت کو مسلسل اٹھاتے آ رہے تھے، اس پر ’کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل‘ (سی اے جی) کی رپورٹ نے مکمل طور پر مہر ثبت کر دی ہے۔ یعنی راجستھان کی بی جے پی حکومت اب کٹہرے میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔

Published: undefined

ٹیکارام جولی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کی جانب سے کانگریس کی 5 سالہ حکومت کا اپنی محض 2 سالہ مدت سے موازنہ کر کے جو گمراہ کن ماحول بنایا جا رہا تھا، وہ آج عوام کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ بی جے پی حکومت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ راجستھان آج ترقی میں نہیں بلکہ قرض لینے میں سب سے آگے نکل چکا ہے اور سی اے جی کے تازہ اعداد و شمار حکومت کی مالی بدانتظامی کی قلعی کھول رہے ہیں۔

Published: undefined

حزب اختلاف کے قائد نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت کو صوبے کی مالی حالت پر ایک قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کرنا چاہیے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ بی جے پی حکومت نے ترقیاتی کاموں پر کس طرح بریک لگا دی ہے۔ انھوں نے ترقیاتی کاموں میں آنے والی گراوٹ پر کہا کہ سرمایہ جاتی اخراجات کے معاملے میں راجستھان آج ملک کی پسماندہ ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے۔ بی جے پی حکومت اپنے ترقیاتی بجٹ کا صرف 51.82 فیصد حصہ ہی خرچ کر پائی ہے۔

Published: undefined

جولی نے حکومت سے براہ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست میں اسپتال، اسکول اور سڑکیں تعمیر ہی نہیں ہوں گی تو نوجوانوں کو روزگار کہاں سے ملے گا؟ آج راجستھان میں ترقی کا عمل تقریباً مکمل طور پر ٹھپ ہو چکا ہے، لیکن اس کے برعکس حکومت نے قرض لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے بجٹ تخمینے سے 65 فیصد زیادہ، یعنی 71,261 کروڑ روپے کا بھاری قرض لے لیا ہے، جو راجستھان کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔

Published: undefined

کانگریس اور بی جے پی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں کانگریس کی حکومت والی ریاستیں تلنگانہ اور کرناٹک ترقیاتی اخراجات کے معاملے میں ملک میں سرفہرست ہیں، وہیں راجستھان کی بی جے پی حکومت نے ریاست کو قرض کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ جولی نے فروری میں بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی میں اٹھائے گئے اپنے نکات کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 میں بنیادی ڈھانچے یعنی کیپیٹل آؤٹ لے کے لیے 53,686 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جنہیں بعد میں نظرثانی شدہ تخمینے (آر ای) میں کم کرکے صرف 38,288 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ انہوں نے اس وقت براہ راست کہا تھا کہ حکومت نے اپنے مالیاتی خسارے کو کاغذی طور پر کم ظاہر کرنے کی ناکام کوشش میں ترقیاتی کاموں (کیپیٹل اخراجات) میں تقریباً 28 فیصد کی بڑی کٹوتی کر دی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ترقی کے بڑے بڑے دعوؤں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined