راہل گاندھی، ویڈیو گریب
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک بار پھر ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی کسانوں کے لیے انتہائی نقصاندہ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے ایک ویڈیو پیغام اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کیا ہے، جس میں وہ عزم ظاہر کرتے ہیں کہ کسانوں کو انصاف دلانے کی لڑائی پوری طاقت سے لڑیں گے، چاہے ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہی کیوں نہ کر دے۔ ویڈیو پیغام کے ساتھ راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ ’’ایف آئی آر ہو، مقدمہ درج ہو یا استحقاق کی تحریک لائیں... میں کسانوں کے لیے لڑوں گا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جو بھی تجارتی معاہدہ کسانوں کی روزی روٹی چھیننے یا ملک کی فوڈ سیکورٹی کو کمزور کرے، وہ کسان مخالف ہے۔ اَن داتاؤں کے مفادات سے کسان مخالف مودی حکومت کو سمجھوتہ نہیں کرنے دیں گے۔‘‘
Published: undefined
ویڈیو پیغام میں راہل گاندھی نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو امریکہ کے کسانوں کے لیے فائدہ مند اور ہندوستانی کسانوں کے لیے نقصاندہ بتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کسان ہندوستان کی بنیاد ہیں۔ ان کسانوں کے لیے اور فوڈ سیکورٹی کے لیے کانگریس پارٹی اور ہندوستان کی عوام لڑے گی۔ نریندر مودی جی نے ہماری فوڈ سیکورٹی، ہمارے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر کے پی ایم مودی نے کپاس کے کسانوں کو، سویا کے کسانوں کو، سیب کے کسانوں کو، پھل کے کسانوں کو فروخت کر دیا ہے۔ ہندوستان کے زرعی بازار پر سالوں سے بیرون ممالک کے لوگ قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نریندر مودی جی نے ان کے لیے دروازہ کھولا ہے۔ یہ حقیقت وہ بھی جانتے ہیں، میں بھی جانتا ہوں۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے اس ویڈیو پیغام میں پی ایم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے خوفزدہ بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کا زرعی بازار بیرون ملکی طاقت کے لیے کھولا گیا کیونکہ ان کے (پی ایم مودی کے) گلے پر (ٹرمپ نے) ’چوک‘ (گرفت) لگا رکھا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کی لگام پکڑی ہوئی ہے۔‘‘ اس تجارتی معاہدہ کے مضر اثرات پر بات کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’مکئی، کپاس، سویابین اور پھل شروعات ہے۔ نریندر مودی پورے زرعی بازار کے دروازے کھولیں گے۔ یہ دروازے وہ اپنے متروں کے لیے، اڈانی-امبانی جیسے لوگوں کے لیے، غیر ملکی طاقتوں کے لیے کھولیں گے۔‘‘
Published: undefined
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کے کسان اور پورا ملک جانتا ہے کہ نریندر مودی کسان مخالف ہیں۔ وہ اپنے متروں کی مدد کرتے ہیں۔ پہلے بھی انھوں نے سیاہ قوانین لائے تھے، اب انھوں نے بیرون ملکی طاقتوں کے لیے دروازہ کھول دیا ہے۔‘‘ امریکہ اور ہندوستان کے کسانوں میں بنیادی فرق کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ کے جو کسان ہیں، ان کے بڑے بڑے کھیت ہوتے ہیں، ہزاروں ایکڑ کے کھیت ہوتے ہیں۔ پورا میکانائز ہے، اور ان کو حکومت سبسیڈی دیتی ہے۔ ہمارے کسانوں کے کھیت چھوٹے ہوتے ہیں، ٹھیک ایم ایس پی نہیں ملتی ہے، اور میکانائزیشن کا تو نام ہی نہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی جی نے ملک کو فروخت کر دیا ہے، کسانوں کو فروخت کر دیا ہے۔‘‘
Published: undefined
ہندوستانی کسانوں کے لیے نقصاندہ اس ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’آپ میرے اوپر کیس ڈالو، گالی دو، جو بھی آپ کو کرنا ہے کرو۔ استحقاق کی تحریک ڈالنا ہے وہ ڈال دو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ آخر میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سچائی بولی ہے۔ آپ کو سچائی اچھی نہیں لگے، وہ دوسری بات ہے۔ ملک سچائی کو سمجھتا ہے۔ آپ کچھ بھی کرنا ہے کر لو، میں کسانوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ایک اِنچ پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ کانگریس صدر کھڑگے جی، میں اور پوری کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ناانصافی ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: محمد تسلیم