
بھٹنڈہ ملٹری اسٹیشن، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی فوج کے ایک گنر کو اپنے چار غیر مسلح ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جو گزشتہ ہفتے بھٹنڈہ کے ملٹری سٹیشن کی ایک بیرک میں سو رہے تھے۔ عینی شاہد ایک گنر تھا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ 'کرتا پاجامے' میں دو نقاب پوش افراد 12 اپریل کی صبح جرم کرنے کے بعد قریبی جنگل میں غائب ہو گئے۔
بھٹنڈہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گلنیت سنگھ کھرانہ نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ کے اہم گواہ موہن دیسائی کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ رجمنٹ آف آرٹلری کے ساگر بننے، کملیش آر، یوگیش کمار جے، اور سنتوش ایم ناگرال کو افسروں کی میس کے پیچھے ایک بیرک میں ان کے کمروں میں قتل کیے جانے کے بعد فوج نے کہا تھا کہ جرم میں استعمال ہونے والی رائفل اور میگزین کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔
بتادیں کہ 12 اپریل کو بھٹنڈہ ملٹری اسٹیشن پر فائرنگ میں 4 جوان مارے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور کے ایک ہاتھ میں رائفل اور دوسرے میں کلہاڑی تھی۔ صبح 4.35 بجے ہونے والی اس فائرنگ میں زخمی ہونے والے تمام جوانوں کا تعلق 80 میڈیم رجمنٹ سے تھا۔ حالانکہ اس وقت کہا گیا تھا کہ فائرنگ کرنے والا اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فائرنگ کی جگہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔