
کولکاتا: کانگریس اور بایاں محاذنے مشترکہ طور پر وزیرا عظم نریندر مودی کو خط لکھ کر آل انڈیا جوائنٹ انٹرننس امتحان میں مقامی زبان میں صرف گجراتی کو شامل کیے جانے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اس میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
Published: undefined
مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عبد المنان نے کہا کہ ملک میں کئی زبانیں ہیں جن کی تاریخ اور روایات بہت ہی مستحکم ہے۔مگر مرکزی حکومت نے صرف ایک زبان کو شامل کرکے دیگر تمام زبانوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر دیگر زبانوں کو نظر انداز کیوں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
خیال رہے کہ 25 جوائنٹ انٹرننس امتحان کیلئے انگریزی اور ہندی کے علاوہ اردو، مراٹھی اور گجراتی کو شامل کیا گیا ہے۔جب کہ اردو اور مراٹھی کو متبادل زبان کے طور پر شامل کیا گیا ہے جب کہ گجراتی کو مقامی زبان کے طور پر شام کیا گیا ہے
عبد المنا ن نے کہا کہ ہر ایک معاملے میں سیاست کرنے والی بی جے پی اور ترنمول کانگریس اس معاملے میں خاموش ہے۔اس معاملے میں بنگال حکومت نے کہا کہ طلباء پہلے بنگلا زبان امتحان دینے کیلئے درخواست دیں اگر قبول نہیں کیا جاتا ہے تو پھر بنگال حکومت اس معاملے میں آواز بلند کرے گی۔عبدا لمنان نے کہا کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی بھی بنگلہ زبان کو شامل نہیں کیے جانے پر خاموش ہے۔
Published: undefined
خیال رہے کہ جوائنٹ انٹرننس میں بنگلہ کو نظر انداز کیے جانے پر نہ صرف سیاست داں مخالفت کررہے ہیں بلکہ بنگال کی تعلیمی شخصیات بھی حکومت کے اس قدم کی مخالفت کررہے ہیں۔پروفیسر نرسنگھ پرساد بادوری نے کہا کہ یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے۔آخر گجراتی زبان کو ہی کیوں ترجیح دیا گیا ہے۔بنگلہ کو کیوں نظرانداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال صرف بنگلہ زبان کا نہیں ہے بلکہ تمام زبانوں کا معاملہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined